Social media Compaign

سوشل میڈیا پر گھریلو ملازمہ عظمیٰ کو انصاف دلوانے کی تحریک رنگ لے آئی

لاہور (سحر نیوز) : لاہور میں تشدد کے بعد قتل کر دی جانے والی گھریلو ملازمہ عظمیٰ کو انصاف دلوانے کے لیے سوشل میڈیا (Social media Compaign) پر شروع کی گئی تحریک رنگ لے آئی۔ تفصیلات کےمطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے گھریلو ملازمہ کے ساتھ دردناک سلوک کرنے اور سفاکیت سے اس کا قتل کرنے کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ سوشل میڈیا پر جاری تحریک میں مطالبہ کیا گیا کہ عظمیٰ قتل کیس کی مدعی حکومت بنے ، کیونکہ عظمیٰ کا والد ایک معمولی سکیورٹی گارڈ ہے اور عین ممکن ہے کہ اسے ڈرا دھمکا کر یا دباؤ میں لا کر کیس واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس معاملے کی تمام تر تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس اس معاملے کا نوٹس لے کر کیس کی پیروی کرے گا اور اس پر نظر بھی رکھے گا کہ کیا معاملات چل رہے ہیں۔

یاد رہےکہ 16سالہ گھریلو ملازمہ عظمٰی (Social media Compaign) کے اندھے قتل کی لرزہ خیز واردات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عظمیٰ جس گھر میں کام کرتی تھی وہاں موجود تین خواتین نے عظمیٰ کو پہلے تو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اسے قتل کر کے لاش بوری میں بند کر دی۔

عظمیٰ کا قصور صرف اتنا تھا کہ اُس نے اپنی مالکن کی بیٹی کی پلیٹ سے ایک لقمہ لے لیا تھا جس پر مالکن نے غصے میں آ کر عظمیٰ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ کسی بھاری چیز سے عظمیٰ کے سر پر ضرب لگائی گئی۔ زخمی ہونےکے بعد بھی عظمیٰ کو اسپتال نہیں لے جایا گیا بلکہ گھر میں موجود تینوں خواتین بجلی کے جھٹکے دے دے کر اُسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی رہیں جس کے نتیجے میں بالآخر عظمیٰ کی موت ہو گئی۔
عظمیٰ کی لاش کو بوری میں بند کر کے نالے میں پھینک دیا گیا۔ سوشل میڈیا (Social media Compaign) پر عظمٰی کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ عظمیٰ کی موت سے ایک دن پہلے کی ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں 16 سالہ عظمیٰ تشدد کے بعد کسی بوڑھی عورت جیسی دکھائی دے رہی ہے۔ عظمیٰ مذکورہ گھر میں 8 ماہ سے ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ انچارج ہومی سائیڈ یونٹ اقبال ٹائون سب انسپکٹر مراد رسول اور انچارج انویسٹی گیشن گلشن اقبال سب انسپکٹر صغیر احمد کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل فون کی CDR حاصل کر کے ملزمان کو ٹریس کر لیا اور 3 سفاک ملزمان مسماة ماہ رخ، آئمہ اورریحانہ بی بی کو گرفتارکر لیا۔

یہ بھی پڑھیں.سپریم کورٹ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

دوران تفتیش ملزمان نے بتایا کہ 16سالہ بچی عظمی ہمارے گھر پچھلے 8ماہ سے کام کر رہی تھی ۔ جسے انہوں اپنی بچی کے کھانے میں ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہلاک ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے تمام صورتحال سے بچنے کے لیے ایمرجنسی15پر جھوٹی کال چلوا دی کہ ہماری ملازمہ گھر سے سامان چوری کر کے فرار ہو گئی ہے اور بعد ازاں مقتولہ عظمی کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر نیلم بلاک کے گندے نالے میں پھینک دیا۔
ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا جس کے بعد 25 جنوری کو تینوں ملزم خواتین کو پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈیوٹی جج اشفاق احمد نے ملزمان ماہ رخ ، آئمہ اور ریحانہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر 14 روز کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے گھریلو ملازمہ عظمیٰ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔
عظمٰی کی دردناک موت کی خبر وائرل ہونے پر سوشل میڈیا پر عظمیٰ کو انصاف دلوانے کے لیے ایک تحریک کا آغاز ہوا جس میں سوشل میڈیا صارفین نے سفاک ملزم خواتین کو کڑی سے کڑی سزا سنانے کا مطالبہ کیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس Social media Compaign) پر #JusticeForUzma ‎UzmaMeriBetiHa# ہیش ٹیگز بھی چلائے گئے تاکہ عظمیٰ کی قاتل خواتین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ سوشل میڈیا پر تحریک نے زور پکڑا تب ہی اس معاملے کا نوٹس لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں