ASSIA BB

آسیہ بی بی کسی بھی وقت پاکستان چھوڑ سکتی ہیں

اسلام آباد (سحر نیوز) : گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آسیہ بی بی (ASEA BB) کی رہائی کا فیصلہ برقرار رہنے کے بعد اب آسیہ بی بی کسی بھی وقت پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو سکتی ہیں۔ آسیہ بی بی کے شمالی امریکہ یا یورپ کے کسی ملک میں پناہ لینے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ بی بی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دورہوگئی جس کے بعد اب وہ بیرون ملک جانے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہیں۔
اس حوالے سے آسیہ بی بی (ASEA BB) کے وکیل سیف الملکو ک نے کہا اس وقت تو آسیہ بی بی پاکستان میں ہیں لیکن وہ بعد میں کہاں ہوں اس بارے میں میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیہ کے بچے پہلے ہی کینیڈا جاچکے ہیں جبکہ فرانس کی جانب سے بھی آسیہ بی بی اور ان کے اہل خانہ کو پناہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی ۔

گذشتہ رات موصول ہونے والی خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آسیہ بی بی نے کینیڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

آسیہ بی بی کینیڈا میں موجود اپنی دونوں صاحبزادیوں اور شوہر کے پاس جائیں گی اور وہیں مستقل رہائش اختیار کر لیں گی۔ آسیہ بی بی (ASEA BB) کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات بھی کریں گی اور اس ملاقات کے دوران ہی ممکنہ طور پر آسیہ بی بی کو کینیڈین شہریت دیے جانے کا اعلان کیا جائے گا۔واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کی رہائی پر نظر ثانی کے لیے دائر کی جانے والی اپیل مسترد کر دی تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آسیہ بی بی کی بریت پر نظرثانی کے لیے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی تھی۔سماعت کے دوران قاری سلام کے وکیل کی لارجربینچ بنانے کی درخواست کی۔ وکیل غلام مصطفٰی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ معاملہ مسلم اُمہ کا ہے، عدالت مذہبی اسکالرز کو بھی معاونت کے لئے طلب کرے۔
جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام کہتا ہے کہ جُرم ثابت نہ ہونے پرسزا دی جائے؟ عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پردیا ہے۔ کیا ایسی شہادتیں قابل اعتبار نہیں اور اگرعدالت نے شہادتوں کاغلط جائزہ لیا تودرستگی کریں گے۔وکیل غلام مصطفٰی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا، جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا جس پرچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سابق چیف جسٹس اس وقت بینچ کا حصہ نہیں ہیں، وہ آپ کی بات کا جواب نہیں دیں گے اورلارجر بینچ کا کیس بنا ہوا تو ضروربنے گا۔

یہ بھی پڑھیں.کوئٹہ سے اغوا کیے جانے والی پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم مغل گھر پہنچ گئے

جس کے بعد سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی (ASEA BB) کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بریت کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے دائر درخواست خارج کر دی تھی۔ یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2018ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت کے خلاف آسیہ مسیح کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کلمہ شہادت سے آغاز کیا اور لاہورہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے آسیہ بی بی کو معصوم اور بے گناہ قرار دیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا، عدالت کے اس فیصلے کے بعد آسیہ بی بی کو 9 سال کی اسیری کے بعد ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں