Noor ul Haq Qadri

حج پالیسی پر وفاقی وزیر مذہبی امور کی ناراضگی کا معاملہ

پشاور(سحر نیوز ) گزشتہ روز حج پالیسی کا اعلان وفاقی وزیر مذہبی امور نُور الحق قادری (Noor ul Haq Qadri) کی بجائے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جانب سے کیا گیا۔ جس پر یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ وفاقی وزیر مذہبی امور حکومت کی جانب سے حاجیوں کو سبسڈی نہ دیئے جانے پر ناراض ہیں، اور وہ اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے نُور الحق قادری کا مؤقف سامنے آ گیا ہے۔
وفاقی وزیر (Noor ul Haq Qadri) نے پشاور میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے حوالے سے چلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ میں کابینہ کا حصّہ ہوں، ناراض کیسے ہو سکتا ہوں۔ کابینہ کا فیصلہ مشترکہ ہوتا ہے۔ بلاوجہ قیاس آرائیاں نہ کی جائیں، میں اجلاس سے ناراض ہو کر نہیں چلا گیا تھا، بلکہ ایک فون کال سُننے کے لیے اُٹھا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ہماری تجویز تھی کہ لوگوں کو حج پر سب سڈی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں.سزائے موت اور توہین رسالت کا قانون ختم نہیں کیا جائے گا

ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کو خوشحالی دینا ہے۔ ریاست مدینہ کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو مفت حج کراؤ۔ ہر سال حج گزشتہ حج سے مہنگا ہوتا ہے۔ جس کے پاس پیسے ہوں گے وہ حج کرے گا۔ میں بھی حج پر جا رہا ہوں اور اپنے خرچے پر ہی جاؤں گا۔ اس بار پاکستان سے ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد عازمین حج پر جائیں گے۔دُوسری جانب اپوزیشن نے حج اخراجات میں اضافہ مسترد کر دیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے سینیٹ میں حج اخراجات میں اضافے پر احتجاج کیا گیا ہے۔ آج سینیٹ کے منعقدہ اجلاس میں اس حوالے سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت کی پالیسی لوگوں کو حج کرنے سے روکنے کے مترادف ہے۔ ان کی حج پالیسی بہت مایوس کُن ہے۔ پوری قوم حج پالیسی سے پریشان ہے۔ دُنیا میں سب سے زیادہ لوگ پاکستان سے حج اور عمرے پر جاتے ہیں۔ (Noor ul Haq Qadri)
حکومت کا یہ فیصلہ حج پر ڈرون حملہ ہے۔مہگانی کی سونامی کی زد میں حج بھی آ گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا رربانی نے سوال کیا کہ وزیر مذہبی امور کہاں ہیں، کل وہ پریس کانفرنس کے موقع پر بھی غائب تھے۔مدینہ کی ریاست کے دعوے دار لوگوں کو مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔ حکومت لوگوں کی بد دُعائیں نہ لے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کہا تھا کہ حج پر سبسڈی جائز ہے۔
کونسل کی سفارش یہ تھی کہ حج اخراجات میں 45 ہزار سبسڈی دی جائے۔وفاقی کابینہ نے اس کے برعکس حج کرایوں میں اضافہ کیا اور سبسڈی ختم کر دی۔سینیٹر مریم اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عازمین کو نہیں دیا گیا۔ ن لیگ دور میں قربانی سمیت سرکارج حج کا خرچ 2 لاکھ 93 ہزار تھا۔ نوز شریف حکومت نے ہر حاجی کو 40 ہزار روپے کی سبسڈی دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں