بھارتی (India)جاسوس کلبھوشن جادھو کا فیصلہ آج ہو گا

عالمی عدالت انصاف 21فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنائے گی

لاہور ۔ (سحرنیوز۔ 17 جولائی2019ء) آج پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم کیس کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے-
جو کہ عالمی عدالت نے ہیگ میں سنانا ہے۔یہ عالمی عدالت اس سے قبل بھی انڈیا (India)اور پاکستان کے درمیان
تنازعات کے فیصلے سنا چکی ہے جیسا کہ پانی کے معاملے پر، تاہم اب کیس جاسوسی اور دہشت گردی کاہے۔
پاکستان نے بھارت(India) کا ایک حاضر سروس جاسوس کلبھوشن جادھو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا جس نے
اپنے آپ کو را کا ایجنٹ بتایا تھا جس کی ذمہ داری بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرناا ور
خاص
طور پر سی پیک کو سبو تاژ کرنا شامل تھا۔
جبکہ انڈیا (India)کلبھوشن کو معصوم بزنس مین کہہ رہا ہے اور وہ کلبھوشن کی پھانسی کی سزا کے حوالے سے ہی
عالمی عدالت میں گیا تھا۔

حکومت نے اسلام آباد میں پلاسٹک کے شاپر بیگز (Shopper Bags)پر پابندی لگا دی

پاکستان بھی انٹرنیشنل قوانین کی پابندی کرتے ہوئے عالمی عدالت میں چلا گیا تھا کیونکہ پاکستان کا کیس بہت
مضبوط تھااور پاکستان کے پاس سارے ثبوت اور شواہد بھی موجود تھے۔تاہم آج اس اہم کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔
جو کہ پاکستان اور انڈیا (India)دونوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

عالمی عدالت انصاف پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ
آج سنائے گی۔پاکستانی وقت کے مطابق کیس کا فیصلہ شام 6 بجے سنایا جائے گا، فیصلہ سننے کے لیے پاکستان
کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچ گئی ہے۔کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننے کے لیے اٹارنی جنرل
پاکستان انور منصور کی قیادت میں پاکستانی وفد ہالینڈ پہنچا ہے۔
ڈی جی سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔
بھارت (India)نے نیوی کمانڈر کلبھوشن جادھو کی بریت کی درخواست دائر کررکھی ہے۔کلبھوشن کیس کی
آخری سماعت 18 سے 21 فروری تک ہوئی تھی جس میں بھارت (India)اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی تھی۔
بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور
منصور خان کر رہے تھے۔
عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔اعلامیے کے مطابق عالمی
عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف ہیگ کے پیس پیلس میں فیصلہ سنائیں گے۔واضح رہے کہ کلبھوشن جادھو
کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین
الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔
10 اپریل 2017 کو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے
موت سنائی گی تھی۔لیکن بھارت (India)کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد
روک دیا گیا تھا۔پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات
کرائی جب کہ اس ملاقات میںبھی کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں