احتساب عدلیہ (Judiciary)کے دروازے تک جا پہنچا

پشاور ہائیکورٹ نے کرپشن میں ملوث دو ججز برطرف کر دیے

لاہور ۔ (سحرنیوز اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2019ء) اس وقت ملک میں احتساب کا سلسلہ چل نکلا ہے
تاہم کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جہاں احتساب کا نام و نشان ہی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو کاغذی کارروائی
تک محدود رہتا ہے۔پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر)راحیل شریف نے بھی فوج میں
احتساب کا سلسلہ شروع کیا تھااور چند آرمی افسران کو کڑی سزائیں دی تھی۔
اب عدلیہ (Judiciary)میں بھی احتساب کا سلسلہ چل پڑا ہے جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا ہائی
کورٹ نے دو ججز کو عہدوں سے فارغ کر دیا ہے۔ہائی کورٹ نے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز
استعمال پر دو ججز کو برطرف کر دیا ہے، برطرف ہونے والے ججز میں سول اور ایڈیشنل سیشن
جج شامل ہیں۔برطرف کرنے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طیب علی سِول جج جب کہ ناصر کمال
ایڈیشنل سیشن جج تھے جنھیں برطرف کیا گیا۔

ویڈیو(video) اسکینڈل دیکھ کر لگتا ہے کہ جج کا مستقبل تو گیا

پشاور ہائی کورٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے ججز کرپشن اور
اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث تھے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ججز کو انکوائری کمیٹی کی
سفارش کی روشنی میں برطرف کیا گیا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ججز کے خلاف ہائی کورٹ
کو شکایات موصول ہونے پر انکوائری کی گئی، انکوائری کمیٹی نے تمام ثبوتوں اور موقف جاننے
کے بعد بر طرفی کی سفارش کی تھی۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ ماضی میں کچھ اہم فیصلے کر چکی ہے، جن میں اپریل میں اسکول
کے بچوں کے بھاری بستوں کے سلسلے میں بھی ایک حکم شامل ہے۔عدالت نے کے پی حکومت
کو بچوں کے بھاری بستوں سے متعلق قانون سازی کا حکم دیتے ہوئے چار ماہ کی مہلت دی تھی،
عدالت (Judiciary)کا کہنا تھا کہ بھاری بستوں سے بچوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔چند ماہ قبل
پشاور ہائی کورٹ نے تمام ججز اور عدالتی (Judiciary)عملے کو گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹ
استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، یہ ہدایت جسٹس محمد ایوب خان پر قاتلانہ حملے کے بعد جاری کی گئی تھی۔
جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی جج ارشد ملک کا ویڈیو اسکینڈل کیس بھی سماعت کے لیے شروع ہو چکا ہے۔
اس کیس پرپورے ملک کے عوام کی نگاہیں ہیں کہ ہائیکورٹ کیا فیصلہ کرتا ہے۔شاید اسی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے
دیگر اہم ادارے بھی اپنے کرپٹ افسران کی ادھوری انکوائریوں کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں