پنجاب حکومت نے خادم حسین رضوی(khadim hussain rizvi) کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

لاہور ہائی کورٹ نے خادم حسین رضوی(khadim hussain rizvi) کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، حکومت کی اپیل جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 18 جولائی کو لاہور رجسٹری میں پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت کرے گا

اسلام آباد (سحرنیوزاخبارتازہ ترین – این این آئی16 جولائی2019ء) پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی(khadim hussain rizvi) کی ضمانت کے فیصلے
کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔صوبائی حکومت نے اپنی اپیل میں موقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے
خادم حسین رضوی کو ضمانت پر رہا کرنے کے فیصلے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔
درخواست کے متن میں کہا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

بلاول بھٹو(Bilawal bhutto) سکھر میں حکومت کی ناکامی کے متعلق کیا کہتے ہیں. آگے پڑھے

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ سے خادم حسین کی ضمانت (khadim hussain rizvi)پر رہائی کے فیصلے کو
کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔صوبائی حکومت کی اپیل سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروائی گئی تھی
جسے سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 18 جولائی کو
لاہور رجسٹری میں پنجاب حکومت کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی
(khadim hussain rizvi)اور سابق رہنما پیر افضل قادری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا
حکم دیا تھا۔پیر افضل قادری کی ضمانت کی مدت 15 جولائی کو ختم ہوگئی تھی لیکن طبی بنیادوں پر توسیع کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں