آپ نے ویڈیو کتنے میں فروخت کی ؟ صحافی کا جج ویڈیو اسکینڈل کے ملزم میاں طارق(Mian Tariq Mehmood) سے سوال

Mian Tariq Mehmood

نہ ایک کروڑ نہ دس ہزار۔ ملزم میاں طارق(Mian Tariq Mehmood) کا صحافی کو جواب

اسلام آباد ( تازہ ترین اخبار۔ 22 جولائی 2019ء) : جج ویڈیو اسکینڈل کے ملزم میاں طارق(Mian Tariq Mehmood)
کو آج عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے ملزم میاں طارق سے سوال کیا کہ آپ نے
ویڈیو کتنے میں بیچی ؟
جس پر ملزم نے جواب دیا کہ نہ ایک کروڑ میں نہ دس ہزار میں۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں نے نہیں بنائی نہ بیچی ہے۔
دوران سماعت ایف آئی اے نے ملزم میاں طارق کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے
ایف آئی اے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

جس کے بعد ملزم کو چودہ روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے پانچ اگست کو
دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت ملزم میاں طارق کا کہنا تھا کہ مجھے برین ٹیومر
ہے جیل میں مر جاؤں گا۔

جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو جیل میں میڈیکل کی سہولت دی جائے۔
صحافی نے میاں طارق (Mian Tariq Mehmood)سے سوال کیا کہ ملتان والی ویڈیو میں کیا ہے ؟
جس پر ملزم نے کہا کہ ویڈیو آپ دیکھیں ،
کوئی فرانزک رپورٹ نہیں آئی ۔

اومنی گروپ کے عبد الغنی مجید(Abdul Ghani Majeed) نے آصف علی زرداری کے قدموں میں پناہ ڈھونڈ لی

انہوں نے کہا کہ میری ویڈیو تو ابھی منظر عام پر نہیں آئی۔ ملزم کا مزید کہنا تھا کہ لینڈ کروزر
میری نہیں ہے نہ میرے گھر سے برآمد ہوئی۔ خیال رہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے
میاں طارق کی اپنی ویڈیو سامنے آ گئی تھی۔ ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار میاں طارق کی لوگوں
کو دھمکانے کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں میاں طارق کو کسی شخص کو دھمکاتے ہوئے دیکھا گیا۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ میاں طارق(Mian Tariq Mehmood) اس شخص پر اثرو رسوخ کا دھونس جما رہا ہے۔
میاں طارق نے رقم کے لیے آنے والے شخص کو گالیاں بھی دیں۔ملزم نے شہری کو دھمکی دی اور
کہا کہ جو کرنا ہے کر لو۔
یاد رہے کہ جج ویڈیو اسکینڈل کے اہم کردار اور مرکزی ملزم میاں طارق کو 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں