عجمان: پاکستانی افراد نے بھارتی بچے کوبچھڑے والدین (parents)سے مِلوا دیا

parents

بچے کے 14 دِن تک غائب رہنے کی خبریں اماراتی اخبار کی زینت بنتی رہیں

عجمان ( تازہ ترین اخبار۔ 22جولائی 2019ء) گزشتہ دِنوں متحدہ عرب امارات میں ایک بھارتی
بچے کے ناراض ہو کر گھر سے بھاگ جانے کی خبریں اماراتی اخبارات میں مسلسل شائع
ہوتی رہیں۔بچے کے شارجہ میں مقیم والدین(parents) نے بتایا تھا کہ وہ کسی بات پر دُکھی ہو کر
اچانک گھر سے چلا گیا تھا اور کئی روز تک اُس کے بارے میں پتا نہ چل سکا۔
یہ بچہ کہاں کہاں رہا اور وہ واپس ماں باپ تک کس طرح پہنچا،
یہ سب کہانی آخر ظاہر ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی بچے نے چودہ دِن عجمان کے ایک وِلا میں
رہائش پذیر پاکستانی باشندوں کے ساتھ گزارے تھے۔ 5 جولائی 2019ء کو بچہ
محمد پرویز گھر سے بھاگا تھا اور پھر 19 جولائی کو سہ پہر تین بجے اُس کے
والد عالم نے اُسے شارجہ انڈسٹریل ایریا کے پولیس اسٹیشن سے وصول کیا۔

برطانیہ کا جہاز(Ship) اغوا ہو گیا

پرویز کے مطابق گھر سے چوری نکلنے کے بعد وہ سائیکل چلا کر شارجہ
کے الرحمانیہ پمپ اسٹیشن تک گیا۔

جہاں اُس نے فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد 5 درہم ناشتے پر لگائے۔ وہ دو گھنٹوں
تک مسجد میں ہی سویا رہا۔ بعد میں پرویز سائیکل چلا کر عجمان کے علاقے
حمیدیہ چلا گیا۔ جہاں اُس کی ملاقات پاکستانی نوجوانوں کے ایک گروہ سے ہوئی۔
پرویز نے اُن سے جھوٹ بولا کہ اُس کے والدین (parents)ایک ایمرجنسی کے باعث بھارت چلے گئے ہیں
اور اُسے یہیں چھوڑ گئے ہیں۔ اس طرح کی جھوٹی سچی کہانی سُنا کر اُس نے
اُن سے درخواست کی کہ وہ اُسے اپنے پاس ہی ٹھہرا لیں۔

مہربان پاکستانی ورکرز نے اُسے اس بات کی بھی آفر کی کہ وہ اُس کی بھارت میں
موجود والدین سے موبائل فون پر بات کروا دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے
اُسے ایک کالنگ کارڈ بھی دیا۔ مگر اس کے جواب میں اُس نے کہا کہ اُسے اپنے
والد کا موبائل نمبر معلوم نہیں ہے۔ تاہم بعد میں ان پاکستانیوں میں سے ایک نے
جب میڈیا پر اُس کی گمشدگی کی خبریں اور تصاویر دیکھیں تو اپنے دیگر ساتھیوں
کو بھی بتا دیا۔ جس کے بعد اُسے شارجہ کے سی آئی ڈی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا۔
والدین (parents)اپنے بچے کو دوبارہ اپنے سامنے پا کر فرطِ جذبات سے رو پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں