کرسٹیانو رونالڈو(Ronaldo) کو مبینہ ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا:امریکی پراسیکیوٹرز

Ronaldo

متاثرہ خاتون نے 2009ءمیں جنسی حملے کی اطلاع دی تاہم یہ نہ بتایا کہ یہ کہاں ہوا یا حملہ آور کون تھا:دی کلارک کاﺅنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس

لاس ویگاس ( تازہ ترین اخبار۔ 23جولائی 2019ء) امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پرتگالی
فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو(Ronaldo) کو مبینہ ریپ کے الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔
واضح رہے کہ 34 سالہ کیتھرین مےیورگا نامی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ رونالڈو (Ronaldo)
نے 2009 ءمیں امریکی شہر لاس ویگاس کے ایک ہوٹل میں انکا ریپ کیا۔کیتھرین مےیورگا نے
رونالڈو کےساتھ 2010 ءمیں عدالت سے باہر ایک معاہدہ کیا جسکے تحت رونالڈو نے خاتون کو
375000 ڈالرز ادا کیے جسکے عوض یہ طے ہوا کہ وہ اپنے الزامات کبھی منظر عام پر نہیں
لائیں گی تاہم انہوںنے گذشتہ برس اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔
رونالڈو نے امریکی خاتون کی جانب سے لگائے گئے ریپ کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
لاس ویگاس کی پولیس نے اگست 2018 ءمیں متاثرہ خاتون کی درخواست پر ایک بار پھر مبینہ جرم کی تحقیقات کی۔

پی ایف ایف نیشنل چیلنج فٹ بال (football)کپ کل شروع ہوگا

دی کلارک کاﺅنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے ایک بیان میں کہا کہ متاثرہ خاتون نے 2009ءمیں جنسی
حملے کی اطلاع دی تاہم اس واقعے سے انکار کر دیا کہ یہ کہاں ہوا یا حملہ آور کون تھا جسکے
نتیجے میں پولیس معقول تحقیقات کرنے سے ’قابل‘ نہیں تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسوقت کی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد رونالڈو کےخلاف جنسی حملے
کے الزامات کو مناسب شک سے باہر ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے لہذا رونالڈ (Ronaldo)کےخلاف کوئی الزام نہیں
ہے۔خیال رہے کہ ایک جرمن جریدے نے گذشتہ سال رونالڈ کےخلاف الزام لگانےوالی خاتون کا انٹرویو
شائع کیا تھا۔میگزین کے مطابق مذکورہ خاتون نے رونالڈ کےساتھ 2010 میں عدالت سے باہر
ایک معاہدہ کیا جسکے تحت رونالڈو نے خاتون کو 375000 ڈالرز ادا کیے جسکے عوض یہ
طے ہوا کہ وہ اپنے الزامات کبھی منظر عام پر نہیں لائیں گی۔رونالڈو کو فٹبال کی تاریخ کے
عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک گنا جاتا ہے۔ وہ 2008ئ، 2013ئ، 2014ئ، 2016 ءاور
2017 ءمیں بیلن ڈی اور ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں