ریاست مدینہ(Medina) کی بات ووٹ لینے کے لیے نہیں کرتا. عمران خان

Medina

مدینہ (Medina)کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست اور جدید ریاست تھی . وزیراعظم کا اسلام آباد میں خطاب

اسلام آباد(اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 جولائی۔2019ء) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے
کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے اور انہیں تمام سہولیات فراہم کریں گے.
اسلام آباد میں ایوان صدر میں اقلیتوں کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان
کا کہنا تھا مدینہ کی ریاست مسلمانوں کے لیے رول ماڈل ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے
ملک میں لوگ سمجھیں کہ مدینہ(Medina) کی ریاست کیا تھی، مدینہ کی ریاست ایک جدید ریاست تھی.
عمران خان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اور
میرا نئے پاکستان سے متعلق ایک وژن ہے.

شمالی وزیرستان:سرحد پار سے دہشتگردوں کی فوج (pak army)پر فائرنگ

انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ریاست مدینہ (Medina)کی بات ووٹ لینے کے لیے کرتا ہوں
جبکہ ریاست مدینہ نئے پاکستان کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے. عمران خان
نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ اس کا وڑن کا تھا اور مدینہ
کی ریاست کو سمجھے بغیر ہم نہیں سمجھیں گے کہ یہ ملک کیوں بنا تھا.

انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جامعات میں باقاعدہ چیئرز دی جائیں اور
مدینہ کی ریاست پر پی ایچ ڈی کی جائے اور لوگوں کو سمجھ میں آئے کہ یہ ریاست کیا تھی.
اپنے خطاب میں عمران خان نے کہاکہ مدینہ کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی، وہاں
انسانیت اور رحم تھا اور یہ جدید ریاست تھی، وہاں اقلیتوں کا تحفظ کیا گیا. وزیراعظم نے
کہا کہ حضورﷺکی زندگی ہمارے لیے ایک مثال اور مشعل راہ ہے جبکہ قرآن پاک میں
حکم ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے تو پھر ہم کیسے آج زبردستی لوگوں کا
مذہب تبدیل کرواتے ہیں، یہ سب غیر اسلامی ہے.
عمران خان نے کہا کہ جو لوگ زبردستی کرکے لوگوں کو اسلام کی طرف لاتے ہیں وہ نہ
تو اسلام کی تاریخ جانتے ہیں اور نہ انہیں دین کا علم ہے اور نہ ہی وہ قرآن اور سنت کو جانتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں