العین: عرب نوجوان نے مسجد (Mosque)میں گھُس کر نمازی کو قتل کر دیا

Mosque

ملزم کا مقتول نمازی کے ساتھ پُرانے خاندانی جھگڑا چلا آ رہا تھا

ابوظہبی ( تازہ ترین اخبار۔ 29جولائی 2019ء) مقامی عدالت نے ایک شخص کو اپنے خاندانی
دُشمن کو قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سُنا دی ہے۔ یہ واقعہ 2017ء میں العین کے
علاقے میں پیش آیا تھا۔ جب 30 سالہ نوجوان نے خاندانی جھگڑوں کی بناء پر اپنے دُشمن کو
مسجد(Mosque) میں گھُس کر گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں وہ شخص زخموں ک
ی تاب نہ لاتے ہوئے دُنیا سے چل بسا تھا۔

استغاثہ کی جانب سے ملزم پر قتل اور عبادت گاہ کا تقدس مجروح کرنے کے الزامات عائد کیے
گئے تھے۔ عدالت نے عرب نوجوان کو قصور وار پاتے ہوئے موت کی سزا سُنا دی۔ تفصیلات
کے مطابق ملزم کے مقتول کے ساتھ خاندانی اختلافات تھے، جن کا بدلہ لینے کی خاطر وہ مقتول
کو مارنے کی تاک میں تھا۔ وقوعے کے روز اُس نے ملزم کا اُس وقت پیچھا کرنا شروع کیا جب
وہ نماز پڑھنے کی خاطر گھر سے جانے کے لیے مسجد(Mosque) کی جانب روانہ ہوا۔

حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر ایک اور ڈرون (drone aircraft)حملہ

اتفاق سے مسجد(Mosque) سے قبل لوگوں کے گزرنے کی وجہ سے وہ مقتول کو قتل کرنے کے
ارادے پر عمل نہ کر سکا۔ جب مقتول نماز پڑھنے میں مصروف تھا تو ملزم مسجد کے
دروازے پر کھڑا اُس کا انتظار کرتا رہا۔ جونہی وہ مسجد(Mosque) سے باہر آنے لگا تو عرب نوجوان
نے اُس کے سر اور جسم کے مختلف حصّوں پر پسٹل سے کئی گولیاں فائر کیں جن کے
نتیجے میں نمازی شدید زخمی ہوگیا اور بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گیا۔
ملزم واردات انجام دینے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا تاہم بعد میں اُس نے العین سٹی
کے پولیس اسٹیشن جا کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں