بلاول بھٹو(bilawal bhutto zardari) کی ووٹ نہ دینے والے سینیٹرز کو پی ٹی آئی جوائن کرنے کی ہدایت

اچھا ہو سینیٹ الیکشن میں چہرے بے نقاب ہو گئے،چاہتا ہوں بس وفادار ساتھی ہی ساتھ ہوں،جنہوں نے ہمارے خلاف ووٹ دیا وہ پی ٹی آئی جوائن کر لیں۔ بلاول بھٹو(bilawal bhutto zardari) کی میڈیا سے گفتگو

bilawal bhutto zardari

اسلام آباد( اخبارتازہ ترین۔ 03 اگست 2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمینبلاول بھٹو زرداری (bilawal bhutto zardari)کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عام انتخابات میں سلیکشن کروائی گئی۔صاف اور شفاف الیکشن کے لیے قانون سازی ہونی چاہئیے۔2007ء سے کچھ لوگوں کو خواب آ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جا رہی ہے۔سندھ حکومت ختم کر سکتے ہیں تو کر کے دکھائیں۔سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے سینیٹرز سے رابطہ کیا گیا۔پورے ملک نے سینیٹ میں دھاندلی ہوتی دیکھی۔50 سینیٹرز نے چئیرمین کے خلاف ووٹ دیا۔صادق سنجرانی کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئیے۔ہم اس معاملے کی پوری طرح تحقیقات کریں گے۔پیپلز پارٹیکے تمام سینیٹرز نے مجھے استعفے پیش کیے۔میں نے استعفے منظور نہیں کیے اور فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنا دی۔

مقبوضہ کشمیر(jammu kashmir) میں خوف کے سائے ‘ہندﺅ یاتریوں کو وادی چھوڑنے کا حکم

میں نے مہم کے دوران کہا تھا کہ ہمارے سینیٹرز کو پیسوں کی پیشکش کی جا رہی ہے۔میں شک کی بنیاد پر کسی کو نہیں نکال سکتا۔اچھا ہو سینیٹ الیکشن میں چہرے بے نقاب ہو گئے۔چاہتا ہوں میرے ساتھ وہی لوگ ہوں جو واقعی وفادار ہوں۔بلاول بھٹو(bilawal bhutto zardari) نے کہا کہ جنہوں نے ہمارے خلاف ووٹ دیا وہ پی ٹی آئیجوائن کر لیں۔دوسری جانب چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف سینیٹ میں اپ سیٹ شکست کے بعد سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اپوزیشن کی کس جماعت کے سینیٹرز نے اپنے ووٹ فروخت کیے۔اس بحث کے آغاز کے بعد الزامات سے بچنے کیلئے پیپلز پارٹی کے تمام سینیٹر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے تمام سینیٹرز نے گزشتہ روز اپنے استعفے پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری (bilawal bhutto zardari)کو بھجوا دیے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کل 21 سینیٹرز نے اپنے استعفے پارٹی چئیرمین کو بھجوائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو تبدیل کرنے کی اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی تبدیلی کی حکومتی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں جس کے بعد صادق سنجرانی چیئر مین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے عہدے پر برقرار ہیں۔چیئرمین سینٹ کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ کے دور ان میر حاصل بزنجو نے 50اور صادق سنجرانی نے 45ووٹ حاصل کئے ، پانچووٹ مسترد ہوگئے ، جماعت اسلامی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ، چوہدری تنویر بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ووٹ کاسٹ نہ کر سکے ، اسحاق ڈار نے حلف ہی نہیں اٹھایا ،چیئرمینسینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور حکومتی اراکین کی جانب سے ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں