بھارتی سپریم کورٹ(Supreme Court of India) کا کشمیر میں کرفیو،آرٹیکل 370 کالعدم قرار دینے کے خلاف درخواست کی فوری سماعت سے انکار

درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان معاملے کو اقوام متحدہ لے کر جا سکتا ہےاس لیے فوری سماعت شروع کی جائے گی، اقوام متحدہ پارلیمنٹ کو قانون سازی سے نہیں روک سکتا۔ بھارتی سپریم کورٹ(Supreme Court of India) کا جواب

Supreme Court of India

نئی دہلی ( اخبارتازہ ترین۔ 08 اگست 2019ء ) بھارتی سپریم کورٹ (Supreme Court of India)نے کشمیر میں کرفیو کے خلاف درخواست کی فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس رمنا کا کہنا ہے کہ درخواست مناسب لسٹنگ کے لیے چیف جسٹسکے سامنے پیش کی جائے گی۔آرٹیکل 370 کالعدم قرار دئیے جانے کے خلاف اپیل کی فوری سماعت مسترد کر دی گئی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان معاملے کواقوام متحدہ لے کر جا سکتا ہےاس لیے فوری سماعت شروع کی جاائے گی۔جس پر بھارتی سپریم کورٹ(Supreme Court of India) نے کہا کہ اقوام متحدہ پارلیمنٹ کو قانون سازی سے نہیں روک سکتا۔خیال رہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو بھارتی سپریم کورٹمیں چیلنچ کر دیا گیا تھا۔

مریم نواز(Maryam Nawaz) کو گرفتار کر لیا گیا

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما تحسین پونا والا کی طرف سے دائر پٹیشن میں عدالتسے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس درخواست کی فوری سماعت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو، فون، انٹرنیٹ اور نیوز چینلز پر پابندی سمیت تمام جارحانہ اقدامات کو واپس لینے کا حکم جاری کرے۔پٹیشن میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزراء اعلیٰ محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ اور دیگر سیاسی رہنمائوں کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔تحسین پونا والا نے بھارتی سپریم کورٹ (Supreme Court of India)سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے عدالتی کمیشن کا تقرر بھی کرے۔جب کہ جوڈیشل ایکٹو ازم پینل نے بھارت کی جانب سے 370 اے کی منسوخی کیخلاف عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان کر دیا جس کیلئے بیرسٹر ایم این ملک، بیرسٹر امجد ملک اور بیرسٹر محسن ملک کہ خدمات حاصل کر لی گئیں۔جوڈیشل ایکٹوم ازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارت کا 370 اے کو منسوخ کرنے عالمی معاہدوں اور خود بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔370 اے کو چیلنج کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ (Supreme Court of India)کو چٹھی بھیج رہے ہیں جس کے ذریعے بھارتی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے طریقہ کار کی معلومات لی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں