پاک فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول عبور کر لی، مقبوضہ کشمیر(jammu kashmir) میں داخل ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ

پاکستانی جنگی طیاروں نے مختصر وقت کے لئے ایل او سی عبور کیا اور انڈین ایر اسپیس میں داخل ہوئے۔ انڈین میڈیا رپورٹس

jammu kashmir

نئی دہلی  ( تازہ ترین اخبار۔09 اگست 2019ء) : بھارتی میڈیا رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے مختصر وقت کے لئے ایل او سی عبور کیا اور مقبوضہ کشمیر(jammu kashmir) میں داخل ہوئے۔بھارتی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ پاک فضائیہ کے جٹ طیاروں نے لائن آف کنٹرول عبور کی،انڈین ایر اسپیس میں داخل ہوئے لیکن جلد ہی واپس لوٹ گئے۔پاک فضائیہ کا IL-78 ایئر ریفیوئلنگ ٹینکر طیارہ کشمیر کے علاقے کے بالکل قریب تھا اور کنٹرول لائن کو عبور کرنے کے تھوڑی دیر طعد ہی واپس چلا گیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کی خطے میں بڑھتی اہمیت کا ناجائزہ فائدہ اٹھانا شروع کر دیا جس کے تحت ہی انہوں نے درحد عبور کی ارو بھارت کی جانب داخل ہوئے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کچھ پلاننگ کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید(Sheikh Rasheed Ahmad) نے سمجھوتہ ایکسپریس بند کرنے کا اعلان کردیا

ممکنہ طور پر پاکستان ایل او سی ہر دہشت گرد بھجوا رہا ہے تاکہ جموں کشمیر(jammu kashmir) میں صورتحال خراب ہو سکے۔بھارتی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ پاکستانی حکومت پربھارت کے حالیہ اقدام کے بعد عوام کی طرف سے شدید دباؤ ہے۔اس لیے وہ ان اقدامات کے ذریعے سے عوام کا دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں ماحول خراب کرنے کے لئےپاک فضائیہ کو استعمال کر رہا ہے۔واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر (jammu kashmir)میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر دیا تھا۔خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیراب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون سازاسمبلی ہوگی۔یہی نہیں مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔اس اقدام کے لیے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر(jammu kashmir) کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔یاد رہے کہ بھارتی صدر کی جانب سے آرٹیکل 370 کے بل پر دستخط کے لیے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 367 میں ترامیم لازمی درکار تھیں۔جب کہ دوسری جانن ان حالات میں پاکستان اور بھارت مابین حالات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں