آرمی چیف(army chief) کی مدت ملازمت میں توسیع درست بروقت فیصلہ قرار

فیصلے کے بعد اب قیاس آرائیاں ختم ہوگئی ہیں، آرمی چیف(army chief) کی توسیع کی توقع تھی، کیونکہ پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے۔ سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کا تبصرہ

army chief

اسلام آباد(اخبارتازہ ترین۔19 اگست 2019ء) سینئر تجزیہ کار مظہر عبا س کا کہنا ہے کہ آرمی چیف (army chief)کی مدت ملازمت میں توسیع درست اور بروقت فیصلہ ہے، فیصلے کے بعد اب قیاس آرائیاں ختم ہوگئی ہیں،آرمی چیف(army chief) کی توسیع کی توقع تھی،کیونکہ پاک بھارتکشیدگی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی توقع تھی، لیکن جو صورتحال پچھلے ہفتوں میں بنی ہے اس میں لگ رہا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دے دی جائے گی۔اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ کو دیکھا جائے توسابق صدر آصف زرداری نے بھی جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کی توسیع دی تھی۔اس وقت مالاکنڈ اور سوات اور جنوبی وزیرستا ن میں دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری تھی۔ اس وقت صورتحال مختلف تھی۔

وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ(wafaqi kabina) کا اہم اجلاس طلب کرلیا

اب پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے، کہ جنگ کے خطرات ہیں، کشمیر میں آرٹیکل 370کو ختم کرنے سمیت جو ایشو زہیں اس کے بعد خاصی توقع تھی۔یہ اچھا ہوا ہے کہ حکومت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دے کرقیاس آرائیاں ختم کردی ہیں، اس نقطہ نظر سے دیکھیں تویہ درست اور بروقت فیصلہ ہے۔واضح رہے 29نومبر 2016ء کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی چیف(army chief) کا عہدہ سنبھالا تھا۔اب ان کو مزید تین سال کیلئے آرمی چیف مقرر ردیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29نومبر 2019ء کو سبکدوش ہونا تھا۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع وزیراعظم عمران خان نے کی۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ فیصلہ مشرقی سرحد کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا۔ یہ فیصلہ ملک اور خطے میں امن کے لیے کوششوں کے تسلسل کے لیے کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں