سیلابی(selabi) صورتحال: بڑی پیش رفت، پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز کا رابطہ

بھارت کی جانب سے پاکستان انڈس واٹر کمشنر کو ٹیلی فون کے ذریعے پانی کا ڈیٹا فراہم کیا گیا

selabi

لاہو( اخبارتازہ ترین۔20 اگست 2019ء) پاکستان میں ممکنہ سیلابی(selabi) صورتحال کے دوران بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہبھارت کی جانب سے پاکستان انڈس واٹر کمشنر کو ٹیلی فون کے ذریعے پانی کا ڈیٹا فراہم کیا گیا۔بھارت کے ہر یکے بیراج پر اور فیروزپور بیراج پر پانی کا بہاؤ ڈیڑھ لاکھ کیوسک ہے۔جبکہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں دو لاکھ کیوسک کا ریلا چھوڑا جا سکتا ہے۔پاکبھارت انڈس واٹرکمشنرز کے اعلی حکام کے درمیان پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔پاکستان دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے قبل سندھ طاس معاہدے کے تحتبھارت آگاہ کرنے کا پابند ہے۔

پاکستان(pakistan) یا انڈیا کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کیلئے کسی کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے؟

خیال رہے بھارت نےدو روز قبل بغیر اطلاع کے دریائے ستلج میں بھاکڑا ڈیم سے 50 ہزارکیوسک پانی چھوڑ دیا، لداخ ڈیم کے تین سپل ویز کھول دیئے جبکہ الچی ڈیم سے بھی پانی چھوڑ دیا جس کے نیتجے میں دریائے ستلج اور دریائے سندھ میں سیلاب (selabi)کا خدشہ پیدا ہوگیا۔سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے پاک فوج کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹرمینیجمنٹ اتھارٹیپاکستان(این ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کیا۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے ایک بڑے ریلے کی وجہ سے ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوگا، خود بھارتی علاقے میں دریائے ستلج کے اطراف 61 دیہات خالی کروالیے گئے ، بھارت نے روپر ہیڈورکس سے دولاکھ کیوسک پانی دریائے ستلج میں چھوڑنے کا عندیہ دیا اور ہر ایک گھنٹے بعد پانی چھوڑا جارہا ہے۔دوسری جانب ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے کہا کہ تمام مقامات پر اسٹاف الرٹ ہے، پانی کے ریلے کو کنٹرول کر لیں گے۔ پانی کا ریلا قصور، اوکاڑہ ، پاکپتن، بہاولنگر، لودھراں، وہاڑی، اور بہاولپور کے علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ سیلابی(selabi) صورتحال کے پیش نظر کل وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا جس میں امدادی انتظامات زیر غور آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں