بینظیر بھٹو(benazir bhutto) میرے لئے ہیرو ہیں اور مجھے ان سے محبت ہے ‘ مہوش حیات

ان کی زندگی پر بننے والی فلم میں کردار کی وجہ سے ان کی زندگی سے متعلق پڑھ رہی ہوں ،افسوس ہم نے ایک لیڈر کو گنوا دیا

benazir bhutto

لاہور(اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 20 اگست2019ء) پاکستان کی معروف اداکارہ اور فلمسٹار مہوش حیات نے کہا ہے کہ آج کے دور میں اداکار یا اداکارہ ہونا کافی نہیں بلکہ شائقین سے ملنے والی عزت اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے معاشرے، ملک یا دنیا کے مسائل کے حل میں بہتری لانی چاہیے۔پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو (benazir bhutto)کی زندگی پر بننے والی فلم میں مہوش حیات مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں ۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت پیچیدہ اور مشکل کردار ہے۔بے نظیر بھٹو میرے لیے ہیرو ہیں اور مجھے ان سے محبت ہے۔اس فلم کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے مہوش نے بتایا کہ اس فلم کی کہانی اتنی متاثر کن ہے کہ ہماری موجودہ نسل اور آئندہ نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی خدمات، جدوجہد کو دیکھے، ان کی زندگی کے بارے میں جانیں۔

ترک اداکارہ نے جنگ کی حمایت پر پریانکا کو کھری کھری سنا دیں‘ اداکارہ اسریٰ بلجک (Esra Bilgiç)

وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تھیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے، اس کے لیے ان کی جو محنت ہے، جو جدوجہد ہے اور کیا کیا ان کے ساتھ جو زندگی میں ہوا میرے خیال میں دنیا کو یہ سب دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتابوں میں تو بہت کچھ لکھا جاتا ہے لیکن فلم ان سب کو جاننے کا آسان ذریعہ ہے۔بے نظیر بھٹو(benazir bhutto)کے کردار کو بہتر انداز میں نبھانے پر مہوش حیاتکا کہنا تھا کہ وہ بے نظیر کی زندگی کے بارے میں چند کتابوں کا مطالعہ کر رہی ہیں۔میں جتنا ان کے بارے میں پڑھ رہی ہوں اتنا ہی ان سے متاثر ہو رہی ہوں، فخر بھی ہوتا ہے اور دکھ بھی کہ ہم نے ایک لیڈر کو گنوا دیا۔مہوش حیات نے بتایا کہ وہ ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم کے ساتھ مل کر تعلیم پر کام کر رہی ہیں اور پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں تقریباً 900 لڑکے اور لڑکیوں کے لیے پانچ سکول بنا رہی ہیں جس میں پانچ سے لے کر 16 برس کی عمر کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔یہ ایک ایسا کام ہے جس کے بارے میں ہمیشہ میں نے محسوس کیا اور اس متعلق کام کرنا چاہا۔ میرے لیے اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ تھوڑی سے کوشش سے میں غریب بچوں کا مستقبل سنوار سکوں۔صرف بااختیار اور مضبوط خواتین کے کردار نبھانے کے سوال پر مہوش حیاتکا کہنا تھا کہ ناظرین سمجھتے ہیں کہ وہ ان کرداروں کے ساتھ انصاف کریں گی لیکن گذشتہ کچھ عرصے میں ایسے بھی کردار آئے جن میں لڑکی بہت کمزور ہیلہٰذاوہ ایسے کردار نہیں کر سکتیں تھیں۔مجھے پتا ہے کہ بہت سی لڑکیاں مجھ سے متاثر ہیں، میں ان کرداروں سے انہیںخودمختار بناتی ہوں۔ اگر میں ہی ایک کمزور لڑکی کے کردار کی عکاسی کروں گی تو وہ یہ دیکھیں گی کہ لڑکی کو تو مظلوم ہی ہونا ہے۔پنے فنی کیرئیر میں ڈرامہ اور فلم پربات کرتے ہوئے مہوش حیات کا کہنا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں اس کی بنیاد ڈرامہ ہی ہے۔فلم کو محدود تعداد میں لوگ سینما جا کر دیکھتے ہیں جبکہ ٹی وی ہر گھر میں ہے۔ ڈرامے کے ناظرین کی تعداد بہت بڑی اور اس کا فیڈ بیک بھی شاندار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمایوں سعید، فہد مصطفی سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہیں گی لیکن کچھ وقفے کے ساتھ کیونکہ اگر آپ بار بار ان کے ساتھ آئیں گے تو لوگ بور ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں