کاروباری(business) طور مضبوط بنیاد ملنے سے معاشی استحکام کے ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے،

ہمیں خود کو ایف بی آر کے ٹیکس سے متعلقہ نئے اہداف کے حصول کیلئے درست سمت میں اپنے کاروبار کو آگے بڑھانا ہو گا،سنٹرل چیئر مین اپٹپما

business

یصل آباد (اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 21 اگست2019ء) ملک کی معیشت کو دستاویزی شکل دینے سے وطن عزیز نئے دور میں داخل ہو گا اور کاروباری(business) طور پر ایک مضبوط بنیاد ملنے سے معاشی استحکام کے ثمرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے جبکہ اگر کاروبار پھلے پھولے گا تو ملک میں خوشحالی آئے گی لہٰذا ہمیں خود کو ایف بی آر کے ٹیکس سے متعلقہ نئے اہداف کے حصول کیلئے درست سمت میں اپنے کاروبار(business) کو آگے بڑھانا ہو گا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پراسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے سنٹرل چیئر مین انجینئر رضوان اشرف نے پاکستان ٹیکسٹائل ویلیو ایڈیشن فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز کی غلط فہمیوں کو دور کرنے سمیت ان کے تحفظات متعلقہ اتھارٹیز تک پہنچانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں تاہم ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چا ہئے کہ ٹیکسوں کے نئے نظام کو اختیار کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

امریکہ نے ہواوے(huawei) کو امریکی سپلائرز سے خریداری کے لئے مزید 90 دن کا وقت دے دیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اکانومی کو دستاویزی کرنے سے نہ صرف صنعتی اور کاروباری سیکٹرز کی ترقی ہو گی بلکہ پاکستان کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ اپٹپما کے ریجنل چیئر مین چوہدری حبیب احمد گجر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے علاوہ کوئی حل نہیں کیونکہ اس کے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے لہٰذا اگر ہم نے رجسٹریشن کو نظر انداز کیا تو ہمارے لئے بے شمار مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں جن کا متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اندازہ ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں شامل مختلف ادارے ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے کیونکہ اگر ان میں کوئی شعبہ بند ہو تو پوری ٹیکسٹائل چین متاثر ہوتی ہے اسلئے جب تک یہ چین مکمل ہو کر نہیں چلے گی تب تک صنعتی پہیہ حرکت نہیں کر سکے گا اسلئے بہتر ہوگا کہ سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے نظام کو اپناتے ہوئے متعلقہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کروائیں جس سے ہم ٖغیروں کی محتاجی سے نکل کر خود انحصاری حاصل کر سکیں گے۔اپٹپما کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسیشن کے چیئر مین انجینئر حافظ احتشام جاوید نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر تو کوئی وجہ نہیں کہ ملکی معیشت کو استحکام کے حصول کیلئے ہر شخص اپنا کردار ادا نہ کرے نیز وطن سے محبت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ملکی خود کفالت کیلئے قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں اور اپنے تمام کاروبار(business) کو دستاویزی شکل میں محفوظ رکھیں کیونکہ یہی نئے اور جدید دور کا تقاضا ہے جس کا فائدہ براہ راست ہر قسم کے کاروباری ا فراد کو ہوگا۔انہوںنے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ان فوائد کا علم ہی نہیں اور ہم بھیڑ چال اور خواہ مخواہ ایک نادیدہ خوف کا شکار ہو کر حالیہ بجٹ میں پیش کئے گئے فنانس بل کو درست انداز سے سمجھ ہی نہیں سکے تاہم ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں اور اس کے بغیر ہم چل ہی نہیں سکتے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں وطن عزیز کے روشن مستقبل کی خاطر اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔اجلاس سے اپٹپما کے سینئر ممبر پرویز لالہ، یارن ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری جواد اصغر، سائزنگ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل انصاری، ویونگ ایسوسی ایشن کے صدر وحید خالق رامے ، گرے کلاتھ کے صدرسعید حنیف اور پروسیسرز ایسوسی ایشن کے قائد حیدر عباس اور نصیر وہرہ نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں تمام شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اپنی سفارشات مرتب کرکے فورم کے کنو ینر کو پیش کرے گی۔ دریں اثناء انجینئر رضوان اشرف کو کمیٹی کا پیٹرن انچیف جبکہ انجینئر حافظ احتشام جاوید کو کمیٹی کا کنو ینر منتخب کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں