مقبوضہ کشمیر(jammu and kashmir)میں مسلسل سترہویں روز بھی کرفیو اور دیگر سخت پابندیاں جاری رہیں

بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کا مقبوضہ کشمیرv کی حقیقی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں

jammu and kashmir

سرینگر (اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 21 اگست2019ء) مقبوضہ کشمیر(jammu and kashmir)میں بدھ کو مسلسل سترہویں روزبھی کرفیو اور دیگرسخت پابندیاں جاری ہیں اور بڑی تعداد میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکی تعیناتی کی وجہ سے پورا علاقہ خاص طورپر وادی کشمیر ایک فوجی چھائونی اور میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار دن رات سڑکوں اور گلیوںمیں گشت کر رہے ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔مقبوضہ علاقے میں 5اگست سے ہی ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلزکی نشریات مسلسل بند ہیں اورعلاقے کا باقی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہے ۔ کل جماعتیحریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت کشمیریوں کی پوری سیاسی قیادت کو گھروں یا جیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے جبکہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جاچکاہے ۔

بھارت(India) کی آبی جارحیت ، پاکستان کا پانی بند کرنے کا منصوبہ بنا لیا

مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث علاقے میں غذائی اجناس ، بچوں کے لیے دودھ ، مریضوں کے لیے ادویات اوردیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلتپیدا ہوگئی ہے جبکہ ہسپتالوں کا عملہ اور مریض ہسپتال نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ علاقے میں حالات معمول پر آرہے ہیں، کچھ مخصوص علاقوں میںدو سو کے قریب پرائمری سکول کھولنے کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگیا کیونکہ والدین نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ۔علاقے میںٹرین سروس ، پبلک ٹرانسپورٹ اورپرائیویٹ بسیں مسلسل بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی غیر حاضری کی وجہ سے گزشتہ 17روز سے کوئی کام نہیں ہورہا۔کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دینے کی اجازت نہیں دی جارہی اور صرف ان بھارتی صحافیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جو قابض انتظامیہ کی مرضی کے مطابق رپورٹنگ کرتے ہیں اوروہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کشمیر یوں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کررہے ہیں جس کا مقبوضہ کشمیر(jammu and kashmir) کی اصل صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں