پاکستان کا ایک اقدام جس سے کشمیر(kashmir) کو اس کی خصوصی حیثیت واپس مل سکتی ہے

اگر پاکستان بھارت سے بات کرے کہ ہم اگلے 50 سالوں کے لیے کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد مان لیتے ہیں تو اس سے مقبوضہ کشمیر(kashmir) کے لوگوں کو بہت فائدہ ہو گا۔ سینئیر تجزیہ نگار انیق ناجی کا تبصرہ

kashmir

اسلام آباد ( تازہ ترین اخبار۔ 26 اگست 2019ء) معروف تجزیہ کار انیق ناجی کامسئلہ کشمیر (kashmir)پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر ہم کارگل کو یاد کریں تو چین،عرب ممالک اور امریکا نے جو ایک بات کی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کے جو لوگ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف گئے ہوئے ہیں ان کو پہلے واپس بلائیں ،باقی باتیں بعد میں ہوں گی۔اس کے بعدوزیراعظم نے لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف گئے لوگوں سے تقریر کے ذریعے سے اپیل کی جو کارگل سے واپس آ گئے۔ہم کوئی ردو بدل نہیں کر سکے،کسی ایک چوٹی پر بھی قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے۔اس بات کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی دنیا کے نزدیک لائن آف کنٹرول کو ایک طرح سے بین الاقوامی سرحد قرار دے دیا گیا تھا۔اس موقع پر انیق ناجی نے ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی حکمران کے دربار میں ایک بچے کی دو دعویدار مائیں سامنے آ گئیں تو حکمران نے دونوں کی دلیلوں سے تنگ آکر کہا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر دو ایک اس ماں کو دے دو اور دوسرا دوسری ماں کو۔

جسٹس عظمت سعید شیخ(Justice Azmat Saeed Shaikh) کا پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کیخلاف درخواست کھلی عدالت میں لگانے کاحکم

جس پر بچے کی اصل ماں نے کہا کہ میں اس دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں آپ دوسری خاتون کو یہ بچہ دے دیں۔جس پر حکمران جان گیا کہ بچے کی اصل ماں کون ہے۔انیق ناجی نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر(kashmir) پر بحث اور مذمت سے کچھ نہیں ہونا۔اگر ہم یہ اعلان کریں کہ ہم اگلے 50سال کے لیے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل سرحد ماننے کو تیار ہیں،اس شرط پر کہ مقبوضہ کشمیر(kashmir) میں 4 اگست والی صورتحال بحال ہو جائے۔کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت واپس کی جائے۔انیق ناجی کا کہنا تھا کہ اس اعلان سے ممکن ہے کہ کشمیری عوام کی سلامتی ممکن ہو سکتی ہے اور وہاں مظالم کم ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ کشمیر(kashmir) میں پچھلے 22 روز سے کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی معطل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں