جنگ(jang) کے ماحول میں پاکستانی شخص کی رحمدلی نے بھارتیوں کے دِل جیت لیے

اسد اللہ نے دو بھارتی باشندوں کو کئی ماہ سے اپنے وِلا میں بغیر کرایہ کے ٹھہرا رکھا ہے اور اُنہیں تینوں وقت کا کھانا بھی کھلاتا ہے

jang

دُبئی(اخبارتازہ ترین،26 اگست 2019ء) بھارت اورپاکستان میں اس وقت شدید تناؤ کی صورت حال ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اس وقت جنگ(jang) کا سا ماحول بنا ہوا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ تاہم امارات میں پاکستانی اور بھارتی امن اور سُکھ چین کے ساتھ جی رہے ہیں۔ ایک پاکستانی محمد اسد اللہ کی نیکی اور رحم دِلی نے اسے بھارتیوں میں بھی مقبول بنا دیا ہے۔ جس نے ایجنٹ کے ہاتھوں دھوکا کھانے والے دو بھارتی شہریوں کو اپنے ہاں کئی مہینوں سے پناہ دے رکھی ہے۔یہ دونوں بھارتی باشندے ایک ایجنٹ کی دھوکا دہی کا شکار ہوئے۔ جس نے انہیں آسٹریلیالے جانے کے بہانے پہلے امارات پہنچایا اور پھر انہیں محض 50 درہم دے کر فرار ہو گیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستانی محمد اسد اللہ قرآن پڑھانے کا کام کرتا ہے جس نے مشکلات کے شکار دونوں بھارتی باشندوں کو اپنے ہاں مفت کی رہائش دے رکھی ہے اور تین وقت کا کھانا بھی کھلاتا ہے۔

چین(china) دنیا بھر میں روبوٹس بنانے والے ممالک میں سرفہرست

جب اس سے پُوچھا کہ وہ ان دونوں غیر مُلکیوں کا خیال کیوں رکھ رہا ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ یہ سب محض انسانیت کے ناتے کر رہا ہے۔ اسد اللہ نے مزید بتایا کہ میں نے اپنے وِلا میں ایک کمرے کو کرایہ پر دینے کے لیے اشتہار دیا تھا، جسے پڑھ کر یہ دونوں بدقسمت نوجوان اپنے ایجنٹ کے ساتھ آئے تھے۔ یہاں رہائش کے دوران ان کا ایجنٹ انہیں دھوکا دے کر فرار ہو گیا۔سو میں نے سوچا کہ ان کی مشکل وقت میں جتنی بھی ہو سکے، میں مدد کر سکتا ہوں۔ میں انہیں اپنے ہاں رکھ کے کھانا کھلا سکتا ہوں، جو میں کر رہا ہوں۔ یہاں تک کہ میں اپنے بھارتی دوستوں کو بھی کہہ رکھا ہے کہ وہ ان کو مشکلات سے باہر نکالنے کے لیے کوئی راستہ نکالے۔ مگر چونکہ امارات میں غیر قانونی طور پر قیام کرنا ایک جُرم ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں ہو پا رہا۔ہو سکتا ہے عنقریب ان کی مشکلات کا کوئی حل نکل پائے۔ شیوا کُمار نے بتایا کہ وہ سبزیاں بیچنے کا کام کرتا تھا۔ ہم دُبئی میں بہتر زندگی کی تلاش میں یکم مئی 2019ء کو پہنچے تھے۔ مگر ہم کئی مہینوں سے اس وِلا کے ایک کمرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم واپس جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ویزوں کی میعاد بھی ختم ہو چکی ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ اب ہم اور کیا کریں۔ہم نے اپنے ٹریول ایجنٹ پر یقین کیا مگر اُس نے ہمیں دھوکا دے دیا۔شیوا نے مزید کہا کہ وِلا کا پاکستانی مالک ہمارے ساتھ بہت مہربان ہے، جس نے ہماری پریشانی دیکھتے ہوئے ہم سے کمرے کا کرایہ بھی نہیں مانگا بلکہ اس مصیبت کی گھڑی میں ہمیں کھانا بھی کھلا رہا ہے۔ مگر شیوا کمار کے بھارتی ساتھی عثمان کے لیے بھارت جانا قابلِ قبول راستہ نہیں ہے، کیونکہ بھارت میں موجود اُس کے گھر والوں کو وہ لوگ پریشان کر رہے ہیں، جن سے رقم اُدھار لے کر عثمان متحدہ عرب امارات آیا تھا۔عثمان کہتا ہے کہ ہمیں ہر صورت میں یہاں پر نوکری ڈھونڈنی چاہیے۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ ہم نے کبھی یہاں سے خالی ہاتھ واپس جانے کا نہیں سوچا تھا۔ ہم کام کرنا چاہتے ہیں اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو ہمیں اس پریشانی کی حالت سے نکال سکے۔ جب ان دونوں بھارتیوں سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے قونصلیٹ یا ایمبیسی سے مدد طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ ان سے کس طرح مدد مانگ سکتے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں