اسلام(Islam) قبول کرنے اور مسلمان نوجوان سے شادی کرنے والی سکھ لڑکی کے معاملے کا نوٹس

اسلام(Islam) قبول کر کے مسلمان لڑکے سے شادی کرنے والی سکھ لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا

Islam

ننکانہ صاحب میں اسلام(Islam) قبول کر کے مسلمان لڑکے سے شادی کرنے والی سکھ لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے دونوں خاندانوں کی صلح کروا کر لڑکی کو والدین کے حوالے کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق چوہدری سرور نے دونوں خاندانوں کی صلح کروائی ہے۔ اس حوالے سے چوہدری سرور نے خود بتایا ہے کہ انہوں نے لڑکے اور لڑکی کو بلایااور ان کے وکیل کی موجودگی میں لڑکی کے والدین کو بلا کر ان کی باہمی رضامندی سے ان کی صلح کروائی۔صلح کے بعد لڑکی اس کے والدین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ لڑکی کا تعلق ننکانہ صاحب کے سکھ خاندان سے تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ننکانہ صاحب میں اسلام(Islam) قبول کرنے اور مسلمان نوجوان سے شادی کرنے والی سکھ لڑکی کے معاملے کا نوٹس لیا تھا

بجلی(electricity) ایک روپے 93 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے کمیٹی کو سکھ لڑکی کے اسلام(Islam) قبول کرنے اور مسلمان نوجوان سے شادی کرنے کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرنے اور اس معاملے پر جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی یاد رہے کہ گذشتہ روز ایک خبر موصول ہوئی تھی کہ ننکانہ صاحب میں سکھ لڑکی نے اسلام قبول کر کے مسلمان لڑکے سے نکاح کر لیا۔

سکھ لڑکی جگجیت سنگھ کور دختر بھگوان سنگھ نے مقامی مدرسے میں جا کر اپنی مرضی سے اسلام(Islam) قبول کیا جہاں انہیں کلمہ پڑھایا گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جگجیت کور کا اسلامی نام عائشہ رکھا گیا اور محمد حسان نامی نوجوان سے اس کا نکاح پڑھایا گیا۔اس موقع پر جگجیت کور نے بیان حلفی بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر رہی ہیں اور حسان سے شادی کر رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے گھر سے اپنی مرضی سے آئی ہوئی ہیں۔ لیکن بعد ازاں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں لڑکی کے والدین نے بیٹی کو بازیاب کروانے کے لیے وزیراعظم سے اپیل کی تھی اور اب لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں