امتحانات(examinations) میں نقل روکنے کا منفرد اورعجیب انتظام

طالب علموں کے سروں پر گتے کے ڈبے دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے

examinations

 دنیا کا کوئی بھی ملک ہو بچے پڑھائی میں ڈنڈی ضرور مارتے ہیں اور جب وہ امتحانات(examinations) کی اچھی تیاری کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو امتحانات کے دوران نقل کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں . یہی وجہ ہے کہ دنیا بھرمیں امتحانات میں نقل روکنے کے لیے کئی حربے آزمائے جاتے ہیں .

۔دنیا بھر میں امتحانات(examinations) میں نقل کیلئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں تو دوسری طرف اس پر قابو پانے کے لیے بھی متعدد طریقے آزمائے جاتے ہیں۔امتحانات میں نقل سے متعلق ایک خبر میکسیکو سے آئی ہے جہاں پر طالب علموں کو نقل سے بچانے کے لیے اساتذہ نے طالبعلموں کوگتے کے ڈبے پہنا دیئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میکسیکو کی ریاست ریاست تلاکسالا میں استاد نے گریجوایشن کے امتحان (examinations)میں نقل سے روکنے کیلئے طالب علموں کے سروں پر گتے کے ڈبے پہنا دیئے، اسی دوران ایک شخص نے یہ تصویر کھینچ لی اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف وائرل ہو گئی اور بحث چھڑ گئی ہے کہ نقل روکنے کی غرض سے دورانِ امتحان طالب علموں کے ساتھ ایسا توہین آمیز سلوک مناسب ہے یا نہیں؟کالج آف بیچلرز کے استاد لوئی ہواریز ٹیکسس نے امتحان کے دوران نقل روکنے کیلئے طالب علموں کو سروں پر گتے کے چوکور ڈبے پہنا دیئے جن میں صرف اگلا حصہ کسی کھڑکی کی طرح کھلا ہوا تھا اور جس سے صرف سامنے کی طرف ہی دیکھ سکتے تھے۔

نئے قانون کے تحت اس طرح اب بحرین(bahrain) ائیرپورٹ پر سامان قابل قبول ہوگا

کمرہ امتحان کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو بچوں کے والدین آگ بگولا ہو گئے اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسے ”غیر انسانی عمل“ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ طالب علموں کے ساتھ ایسا توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک کرنے پر ہواریز ٹیکسز کو برطرف کیا جائے.دوسری جانب کچھ لوگوں نے نقل روکنے کے اس طریقے کو منفرد اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف بھی کی ہے.یاد رہے کہ اس سے قبل ایسا واقعہ 2013 میں تھائی لینڈ کے سکول میں بھی پیش آیا تھا جہاں امتحان کے دوران طالب علموں کو زبردستی ”نقل روک ہیلمٹ“ پہنائے گئے تھے جو دراصل موٹے کاغذ کے ٹکڑوں سے بنے تھے اور جنہیں پہننے کے بعد صرف سامنے ہی دیکھا جاسکتا تھا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں