کوہستان ویڈیو اسکینڈل(video scandal) کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے

video scandal

تفصیلات کےمطابق کوہستان ویڈیو اسکینڈل(video scandal) کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صفی اللہ کی عدالت میں سنایا گیا۔ عدالت نے کوہستان ویڈیو اسکینڈل کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرموں ساحر ، سبیر اور عمر خان کو عمر قید کی سزائیں دیں جبکہ ویڈیو اسکینڈل(video scandal) کے 5 ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔خیال رہے کہ کوہستان ویڈیو اسکینڈل میں سپریم کورٹ کے حکم پر لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 2012ءمیں ایک ویڈیو منظر عام پر ا?ئی تھی جس میں ایک شادی کی تقریب میں کچھ لڑکیوں کو رقص کرتے اور تالیاں بجاتے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں کئی لڑکوں کو بھی دیکھا گیا تھا۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ان لڑکیوں سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان کا تعلق کوہستان سے ہے اور انہیں ویڈیو سامنے آنے کے بعد غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا تھا جس پر بعد ازاں سپریم کورٹ نے واقعہ کا از خود نوٹس لیا تھا۔

اینکر پرسن اور معروف صحافی وتجزیہ کار مبشر لقمان(mubasher lucman) کے ذاتی جہاز میں چوری

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او کوہستان کو لڑکیوں کے قتل کی ایف آئی آر درج کر کے فی الفور مقدمہ کی تفتیش شروع کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمے کی حقیقت جاننے کے لیے 3 جے آئی ٹیز بنائی گئیں لیکن ہر مرتبہ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی کیونکہ ہمیشہ دوسری رشتہ دار لڑکیوں کو ویڈیو والی بنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔سماجی کارکن فرزانہ باری اور کوہستان ویڈیو اسکینڈل (video scandal)کے مرکزی کردار افضل کوہستانی مقدمہ کے مدعی اور مرکزی کردار تھے۔ویڈیو بنانے پرقتل کی جانے والی لڑکیوں کے لیے سپریم کورٹ میں افضل کوہستانی نے درخواست دائر کی تھی،اس نے بتایا تھا کہ تقریب کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بعد میں مقامی افراد کے ہاتھ لگ گئی اور وہاں سے علاقے کے دیگر لوگوں میں پھیل گئی، جس پر ایک مقامی جرگے نے ویڈیو میں نظر آنے والی پانچوں لڑکیوں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا۔ افضل کے تین بھائیوں کو بھی اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کےبعد جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے عدالتی احکامات پر کارروائی کرتے ہوئے عمر خان، سفیر اور سرفراز سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں