صلاح الدین(salahuddin) کیس کی اعلیٰ سطی انکوائری کے باوجود صلاح الدین کے ورثاء عدم اطمینان

salahuddin

صلاح الدین (salahuddin)قتل کیس میں اہم موڑ آگیا ہے۔ پولیس کے مبینہ تشدد سے جاں بحق صلاح الدین کے
والد محمد افضال کے وکیل بشارت ہندل ایڈووکیٹ کیس سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ بشارت ہندل
ایڈووکیٹ نے علاقہ مجسٹریٹ ملک محمد رفیق کی عدالت میں پیش ہو کر اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔

واضح رہے کہ صلاح الدین(salahuddin) کے والد محمد افضال نے سات ستمبر کو وزیراعلی پنجاب سردار
عثمان احمد خان بزدار سے ملاقات بھی کی تھی۔

اس موقع پر محمد افضال کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہیں وہ صلاح الدین
جیسے تمام معصوم اور بے گناہوں کو بچانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ صلاح الدین کی قبرکشائی کی جائے تاکہ دوبارہ
پوسٹ مارٹم کرکے حقائق سامنے لائے جاسکیں۔

عوام پنجاب ہاؤس(punjab house) مری اور گورنر انیکسی میں رقم ادا کر کے قیام کرسکیں گے

اس کے علاوہ انہوں نے بیٹے کے قتل میں ملوث ایس پی حبیب کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

وزیر اعلی پنجاب نے صلاح الدین(salahuddin) کے والد کو شفاف عدالتی تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

واضح رہے کہ پولیس نے صلاح الدین کو اے ٹی ایم توڑنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جو 31 اگست
کی شب پولیس حراست میں دم توڑ گیا۔ صلاح الدین کے جسم پر تشدد ثابت ہونے کے بعد ایس ایچ او،
تفتیشی افسر اور اے ایس آئی سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں