آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی صدر(american sadar) نے سعودی عرب کو دفاعی تعاون کی پیشکش

american sadar

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں آئل تنصیبات پر ڈرون حملے سے دنیا بھرمیں ہل چل مچ گئی اور
تیل کی قمیتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔

امریکی صدر(american sadar) ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حملوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے
کہا سعودی عرب کی تیل کی سپلائی پرحملہ ہوا، امریکہ جانتا ہے کہ مجرم کون ہے اور وہ ان حملوں
کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں لیکن وہ سعودیوں سے سننا چاہتے ہیں کہ اس
حملے کے پیچھے کون ملوث تھا اور وہ کس طرح آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

تاہم سعودی آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد مشرقی وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
امریکی صدر(american sadar) ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے خلاف جوابی کاروائی کرنے کو تیار ہیں تاہم
سعودی عرب کی جانب سے حملہ آور کا نام سامنے لانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

جاپان:ٹوکیو(Tokyo) میں گرمی سے بچنے کیلئے مصنوعی برفباری کا کامیاب تجربہ

امریکی صدر(american sadar) نے کہا کہ سعودی عرب پر حملہ کرنے والے کو جانتے ہیں جو اب ہمارے نشانے پر ہے۔
ہم ہتھیار کے ساتھ تیار ہیں۔اس حوالے سے دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کر رہے ہیں تاہم سعودی عرب
کی جانب سے حملہ آور کا نام سامنے لانے کے منتظر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ
امریکا اور سعودی عرب کن شرائط پر آگے بڑھیں گے۔یاد رہے سعودی عرب میں دو آئل ریفائنریز پر
ڈرون حملے کیے گئے جس کے سبب سعودی عرب کی آدھی سے زیادہ آئل پروڈکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی
تھی لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے نہیں ایران نے
کیے ہیں۔ مائیک پومپیو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں
میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری
میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں