شریف خاندان(shareef khandan) کی ڈیل ہوئی تو وہ ایک “عمرہ رسیدہ بڑے” سے ہوئی

shareef khandan

تفصیلات کے مطابق سینئیر صحافی و کالم نگار منصور آفاق کا اپنے کالم
میں کہنا ہے کہ کوئی کوچہ راستہ بدل سکتا ہے،تحریک عدم اعتماد
کامیاب ہوئی تو اس کا مطلب کیا ہو گا .

یہی کہ وزیراعظم جانے کے لیے تیار ہو جائے. اپوزیشن کا ٹارگٹ قومی اسمبلی
نہیں وزیراعظم ہاؤس ہے.کوئی این آر او نہیں ہوا مگر نواز شریف ،
مریم شریف ،ان کے شوہر اور شہباز شریف جیل میں نہیں ہیں.

شریف خاندان(shareef khandan) کیی ضمانت ہونے والی ہے.شہباز شریف تو پھر سے
قلعہ حکومت پر کمندیں پھیکنتے پھرتے ہیں.نیب کے قوانین بدلنے والے
ہیں.احتساب کا چراغ کجلانے والا ہے. کرپشن کے ڈار وطن لوٹنے
والے ہیں. بھولے بادشاہ ڈیل کی خبریں سناتے پھرتے ہیں کہ چودہ بلین
ڈالر میں شریف خاندان کو آزادی ملی یعنی چودہ ارب ڈالر بیس کھرب
روپے.ڈیلی میل کے مطابق نواز شریف کی برطانیہ میں کل جائیداد بتیس
ملین ڈالر کی ہے.اور ایک ہزار ملین کا ایک بلین ہوتا ہے.حکومت سے
شریف خاندان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی.جو ڈیل ہوئی تو وہ ایک “عمرہ
رسیدہ بڑے” سے ہوئی.اسے کون روکے گا؟.

وزیراعظم(prime minister) کو پرویز الٰہی کی بریفنگ

جنرل پرویز مشرف نے بھی بیک وقت کئی لوگوں کو وزیراعظم بننے
کی خوشخبری بھیج دی تھی.میرے خیال میں اُس عمر رسیدہ شخص
کی مرضی کے بغیر تنکا بھی ادھر اُدھر نہیں کیا جا سکتا.
مولانا فضل الرحمن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہی کی
اجازت سے انہوں نے شہر اقتدار پر لشکر کسی کی.یعنی فصیل شہر
کے ہر برج پر منارے پر انہی کی مہرے کماں بدست ہیں،بعض
صحافی بھی جو کل تک عمران خان کے حامی تھے وہ بھی کہہ
رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان استفعیٰ دیں اور چلے جائیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں