لاہور ہائیکورٹ(high court) نواز شریف کے بیان حلفی کا مسودہ خود تیار کرے گی

high court

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ(high court) سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل
سے غیر مشروط طور پر نکالنے کے لیے بیان حلفی کا مسودہ تیار کرے گی۔
دونوں فریقین کی رضامندہی پر فیصلہ کیا جائےگا۔ تفصیلات کے مطابق دوران
سماعت عدالت نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں بیان حلفی پڑھ کر سنایا۔
وکیل نے کہا کہ نوازشریف اور شہبازشریف نے ضمانت دی ہے۔ جیسےہی
نواز شریف صحت یاب ہوں گے واپس آئیں گے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ
جی وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے ؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے
کہا کہ ہمیں اس بیان حلفی پر اعتراض ہے۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ
بیان حلفی میں نہیں لکھا گیا کہ نواز شریف کب جائیں گے کب آئیں گے ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ(high court) نے خاص مدت کے لیے نواز شریف کی ضمانت منظور کی ہے۔

25 نومبرکو اسلام آباد ہائیکورٹ(high court) میں نواز شریف کیس کی اپیل بھی مقرر ہے۔
اشتیاق احمد خان نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔
اگر نواز شریف نہیں آتے تو کیا ہو گا اس لیے اینڈیمنٹی بانڈ مانگےہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے ؟ وفاق نے
نوازشریف کےبیرون ملک سفرکے لیے شرائط عدالت میں جمع کروا دیں۔
وفاقی حکومت نے اعتراض اُٹھایا کہ لیگی رہنماؤں نے بیان حلفی کاوقت
معین نہیں کیا۔
عدالت کی جانب سے ضمانت مقرر مدت کے لیے دی گئی۔ نواز شریف
کاکیس 25 نومبر کو مقرر ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ بیان حلفی میں
نوازشریف کی غیرموجودگی میں فیصلہ آنے سے متعلق نہیں بتایاگیا۔
اگر عدالتی حکم کو بیان حلفی کاحصہ بنالیا جائےتو ہمیں کوئی اعتراض
نہیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ نےاعتراض لگایا کہ نوازشریف وطن واپس
نہیں آئیں گے ۔ سب جانتے ہیں کہ نواز شریف شدید بیمار ہیں اللہ انہیں
صحت دے۔

راولپنڈی(rawalpindi) کے بوائز ہاسٹل میں دھماکہ

آٹھ ہفتوں میں ضمانت کی میعادختم ہوجائےتوعدالت ہی اسےدیکھے گی ۔
شہباز شریف کےبیان حلفی میں سہولت کار کا لفظ ٹھیک نہیں ۔عدالت نے
نواز شریف کے وکلا کو ہدایت کی کہ آپ اس لفظ کی تبدیلی کا حکم دیں۔
عدالت نے کہا کہ نواز شریف کا بیان حلفی مناسب لگ رہا ہے ، لیکن بیان
حلفی میں شہباز شریف کے بیان سے لفظ ”فیسیلٹیٹ (سہولت کار)” کو
”انشور (یقینی)” سے بدل دیں۔
جس پر وکیل نے کہا کہ ٹھیک ہے کر دیتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے
کہا کہ نواز شریف بیرون ملک علاج کے لیےجاسکتے ہیں ۔معیاد ختم
ہونےکے بعدحکومت سے اجازت لینا ہوگی۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا
کہ حکومت کی اجازت میڈیکل رپورٹس سے مشروط ہوگی ۔ سرکاری
وکیل نے کہا کہ نواز شریف کےبیان حلفی میں شامل ہو کہ جوگارنٹی
دی اس کوتسلیم کرتےہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ (high court)
بیان حلفی کا مسودہ خود تیار کرےگی اور دونوں فریقین کی رضامندہی
پر فیصلہ کیا جائےگا۔
یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں
دو رکنی بنچ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست
پر سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومتی میمورینڈم انسانی
بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے، نواز شریف کے وکیل بتائیں کہ کیا نواز شریف
شورٹی کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں، نواز شریف سے ہدایات
لے کر عدالت کو آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
نواز شریف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت عالیہ نے نواز شریف
کی سزا اور جرمانہ معطل کر دیا، معاملہ عدالت میں ہو تو حکومت مداخلت
نہیں کرسکتی، 18 ماہ کے ٹرائل میں نواز شریف خود پیش ہوئے، ایون فیلڈ
ریفرنس میں نواز شریف کو سزا دی گئی، میں انڈر ٹیکنگ دینے کیلئے تیار
ہوں، نواز شریف صحتیاب ہونے کے بعد وطن آجائیں گے۔ عدالت نے
استفسار کیا شہباز شریف آپ بتائیں کس طرح کی ضمانت دینے پر تیار
ہیں ؟ کیا نواز شریف واپس آئیں گے ؟ جس پر شہباز شریف نے کہا
نواز شریف صحتیاب ہونے کے بعد وطن آئیں گے۔
عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا آپ کا نواز شریف کو وطن واپس
لانے میں کیا کردار ہوگا ؟ جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں نواز شریف
کے ساتھ بیرون ملک جا رہا ہوں۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ
نواز شریف اور نیب کی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ(high court) میں 25 نومبر کے لیے
مقرر ہوئی، حکومت بھی نواز شریف سے ضمانت ہی مانگ رہی ہے،
نواز شریف واپس نہیں آتے تو قانون کے مطابق کارروائی ہوسکے گی۔
عدالت نے کہا کہ چاہتے ہیں معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہو، نواز شریف
اور شہباز شریف واپس آنے سے متعلق لکھ کر دیں۔ آج ہونے والی
سماعت میں وکلا کے دلائل کے بعد عدالتی حکم پر نواز شریف اور
شہباز شریف کے بیان حلفی کا ڈرافٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروایا
گیا۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریری یقین دہانی کا ڈرافٹ دو صفحات پر
مشتمل ہے، جس میں کہا گیا کہ نواز شریف صحت مند ہوتے ہی وطن
واپس آئیں گے، نواز شریف واپس آکر اپنے عدالتی کیسز کا سامنا کریں
گے، نواز شریف پاکستان کے ڈاکٹروں کی سفارش پر بیرون ملک جا
رہے ہیں، بیرون ملک میں موجود ڈاکٹر جیسے ہی اجازت دیں گے
ایک لمحہ ضائع کئے بغیر نواز شریف واپس آئیں گے۔
لیکن وفاقی حکومت نے صدر ن لیگ شہباز شریف کا بیان حلفی مستر
د کر دیا تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ہم اس کو کیسے
تسلیم کر سکتے ہیں، بیان حلفی میں کسی قسم کی ضمانت نہیں دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں