ایک ماہ دھرنا دے کردکھاتے تومیں مان جاتا،عمران خان(imran khan)

imran khan

وزیراعظم عمران خان(imran khan) نے کہا ہے کہ ایک ماہ دھرنا دے کردکھاتے تو
ساری باتیں مان جاتا،نبی پاک ﷺ کے دین کو پیسا بنانے کیلئے بیچنا گناہ
ہے،جھوٹ بول کر دھرنے میں لوگوں کو لایا گیا، جتنا بڑا مجرم ،اس نے
کنٹینر پر اتنا زیادہ شور مچایا، ہم نے 126دن گزارے،دھرنے میں ہم
سے زیادہ کوئی ایکسپرٹ نہیں۔انہوں نے آج ہزارہ موٹروے حویلیاں
مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان(imran khan) نے کہا کہ
مرادسعید کی تقریر سن کر سوچ رہا تھا کہ اللہ میرے ملک کے
نوجوانوں میں اس طرح کا جنون پیدا کردے۔
جنون صلاحیت اور عقل کو شکست دیتا ہے۔مجھے خوشی ہے کہ
مراد ہماری سٹوڈنٹس فیڈریشن سے اوپر آئے،آج وفاقی وزیر ہیں۔
کوئی سیاسی رشتہ داری یا تعلق نہیں ہے، میرٹ پر اوپر آئے ہیں،
پوسٹل سروسز اور محکمہ مواصلات دونوں خسارے میں تھے
لیکن انہوں نے آکر اس کو سنبھالا دیا۔
مرادسعید کو اس کی مبارکباد دیتا ہوں۔ آج جو ہم اس موٹروے کا
افتتاح کررہے ہیں یہ سی پیک کا حصہ ہے، ہمارے ملک کی
ترقی میں سی پیک کردار ادا کرے گا۔

لاہور ہائیکورٹ(high court) نواز شریف کے بیان حلفی کا مسودہ خود تیار کرے گی

ہمیں اس سے وہ فائدہ ملے گا ، ہماری پیداوار دنیا میں سب سے کم ہے،
سی پیک پہلے سڑک کانام تھا لیکن آج چین کی انڈسٹری ڈائریکٹ منتقل
ہورہی ہے۔ہم نوجوان نسل کو ہنرمند بنا رہے ہیں ، چین سے ہر طرح کی
انڈسٹری پاکستان میں آرہی ہے۔ ہماری زرعی زمینیں ہیں، لیکن پیدوار
کم ہے، چین کی پیداوار تین چار گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے
پیسا نوجوانوں، انسانوں پر خرچ کرنا ہے، موٹروے تو بنانے ہیں
لیکن پیسا لوگوں پر خرچ کرنا ہے۔
عمران خان(imran khan) نے کہا کہ جتنا بڑا مجرم ہوتا ہے کنٹینر پر چڑھ کر اتنا
زیادہ شور مچاتا ہے۔پاکستان میں دھرنے کا کوئی ایکسپرٹ ہے تو
وہ یہاں کھڑا ہے۔ میں نے کہا کہ تھا ایک ماہ دھرنا دے دیں، تو میں
ان کی ساری باتیں مان جاؤں گا، ہم نے 126دن گزارے ۔جس طرح
مدرسے کے بچوں کو دھرنے میں لایا گیا، ان سے پوچھا گیا تو کہا کہ
اسلام خطرے میں ہے، اسرائیل کا جھنڈالگانے آئے ہیں، کسی کو پتا
نہیں وہ کیوں آئے؟ مجھے تکلیف ہوئی وہ بارش اور سردی میں جبکہ
مولانا گرم کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔
نبی پاک ﷺ کے دین کو پیسا بنانے کیلئے بیچنا گناہ ہے،جھوٹ بول کر
دھرنے میں لوگوں کو لایا گیا۔دین کے نام پر سیاست کرتا ہے، ڈیزل
کے پرمٹ اورکشمیر کمیٹی کی سیٹ پر بکنے والا اسلام کا نام لے
رہا ہے، میں نے اس سے کیا انتقام لینا ہے، اس کو سزا للہ دے گا،
میں دعا مانگتا ہوں اس کو وہ سزا نہ ملے جو اس کو ملے گی۔
وہاں شہبازشریف بھی منڈیلا بننے کی کوشش کررہا تھا، بلاول بھٹو بھی کھڑا ہوا تھا۔
خود کو لبرل کہتا ہے۔ انگریزی میں لبرل ،لبرل نہیں لبرلی کرپٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پہلے دن اقتدار ملا تو میں نے کہا تھا یہ سارے
اکٹھے ہوجائیں گے، کوئی دینی ، کوئی لبرل کہتا ہے، ن لیگ دونوں
طرف ہے اس کا کوئی پتا نہیں ہے۔ شریف خاندان تو 7ارب کی ٹپ
دے سکتا ہے، لیکن کاغذ سائن کرنے پر ڈرامے شروع ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں