پنجاب میں اقتدار کی جنگ شروع،نئے وزیراعلیٰ(chief minister) کون

chief minister

تفصیلات کے مطابق پنجاب کی سیاست اور وہاں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے
گفتگو کرتے ہوئے ہارون الرشید نے کہا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی یقینی ہو گئی
ہے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کو جو بھی الزام دیں لیکن یہ بات ہے کہ
وہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
انہوں نے چیف منسٹر بننے کے لیے ٹھیک وقت پر ٹھیک قدم اٹھایا ہے۔
عمران خان صورتحال کو سمجھتے ہوئے ہوش سے کام لیں،ویسے حکمران
سمجھتے تو کم ہی ہیں،ان کے اردگرد ایک حصار ہوتا ہے۔عمران خان کے
ارد گرد جو حصار ہیں ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مجھے لگتا ہے
کہ ان کے نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیراعلیٰ(chief minister) کے لیے ممکنہ ناموں پر بات کرتے
ہوئے ہارون الرشید نے ہاشم جواں بخت اور محسن لغاری کا نام لیا ہے۔

اب ہالینڈ(Netherlands) کی ملکہ بھی پاکستان آئیں گی

محسن لغاری کی شہرت بہت اچھی ہے، وہ تجربہ بھی رکھتے ہیں اور
ہاشم جواں بخت بھی اچھی شہریت کے حامل ہیں۔چکوال سے تعلق رکھنے
والے یاسر ہمایوں بھی اچھے آدمی ہیں لیکن ان کے پاس تجربہ نہیں ہے۔
میاں اسلم اقبال بھی وزیراعلیٰ(chief minister) پنجاب کے لیے مضبوط امیدوار ہیں،ہارون الرشید نے
کہا کہ نئے وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب سے ہوں تو زیادہ بہتر ہے اس لیے
کہ وہ محروم رکھے گئے ہیں۔
بے شک عثمان بزدار کو جنوبی پنجاب سے لایا گیا ہے لیکن وہ تجربہ نہیں
رکھتے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ کو کچھ ہونا ہے پنجاب میں ہی ہونا ہے
اور وہاں پر اقتدار کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ہارون الرشید کا مزید کہنا ہے
کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے سیریس امیدوار
ہیں جب کہ شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے خواہشمند ہیں۔ شہباز شریف کو
لگتا ہے کہ میں وزیراعظم بنوں گا جب کہ پنجاب میں چوہدری برادران آئیں
گے۔اب اونٹ کر کروٹ میں بیٹھے گا اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں