Kashmir

تحریکِ آزادی کشمیر۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں اظہار خیال شاہد چوہدری

تحریکِ آزادی کشمیر۔۔۔ تاریخ کے آئینے میں
اظہار خیال شاہد چوہدری

Kashmir
Kashmir

Kashmir
Kashmir

برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کی سو سالہ حکمرانی کی تاریخ میں ایسے بے شمار سانحات بلکہ بدنما داغ ہیں جس پر تاریخ کبھی انہیں معاف نہیں کرسکتی۔مگر بدقسمتی سے کیوں کہ تیسری دنیا کے ممالک خاص طور پر مسلم ممالک آج تک ذہنی اور معاشی طور پر غلام ہیں ،اس لئے حکمران تو کیا مورخ بھی اس پر لکھتے ہوئے جھجکتے ہیں۔۔۔
تقسیم ہند کے وقت اُس وقت کے برطانوی حکمرانوں نے تقسیم ہند کا جو فارمولا تھوپا، اس میں لازمی طور پر ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں کو آگ اور خون کے دریا سے گزرنا تھا ۔عالمی تاریخ میں شاید ہی اتنی بڑی کوئی ہجرت ہو جس میں لاکھوں مسلمان تہہ تیغ اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری ہوئی ہو۔پھر بر صغیر پاک وہند میں جو ساڑھے پانچ سو آزاد ریاستیں تھیں، اُس میں بھی برطانوی حکمرانوں نے انتہائی تعصب اور جانبداری کامظاہرہ کیا۔جوناگڑھ ،حیدر آباد دکن اور کشمیر کم از کم تین بڑی ایسی ریاستیں تھیں ، جن میں مسلمانوں کا غلبہ تھا۔بلکہ جوناگڑھ اور حیدر آباد دکن کے توحکمراں ہی مسلمان ،نواب، نظام تھے۔

Kashmir
Kashmir

اگر کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کے پسِ منظر کو دیکھا جائے تو ریاست جموں وکشمیر چوراسی ہزار چار سو اکہتر مربع میل ناقابل تقسیم وحدت ہے۔ بلحاظ رقبہ ریاست جموں وکشمیر دنیا کے 113 آزاد خودمختار ممالک میں سب سے بڑی ریاست ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کا 41342 مربع میل گلگت بلتستان 27946 مربع میل آزاد کشمیر 4114 مربع میل ہے، 1962 کی بھارت چین جنگ کے نتیجے میں چین نے بھارت کے زیر قبضہ صوبہ لداخ کا 9171 مربع میں رقبہ پانے قبضہ میں لے لیا جسے اقصائی چین کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے صدر ایوب نے گلگت بلتستان کی شمال سرحد پر 1868 مربع میل کا علاقہ پاک چین سرحدی معائدہ کے وقت چین کو تحفے میں دیا۔ یوں چین کے زیر قابظ ریاست جموں وکشمیر کا کل 11039 مربع میل علاقہ ہے۔ 1846 میں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکومت قائم کر لی، لیکن اسی سال مارچ 1846 کو انگریزوں نے اپنے وفادار گلاب سنگھ ڈوگرا کو 12/بکریوں 1 گھوڑے، شند شالوں اور 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے بدلے کشمیر کی ریاست بیچ دی
تقسیم برصغیر کے وقت یہ معائدہ طہ پایا کہ انگریز حکومت کے ماتحت علاقوں کت الحاق کا فیصلہ مسلم و ہندو کی اکثریت کی بناء پر جبکہ خودمختار ریاستیں اپنی خودمختاری یا الحاق کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گی۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ 1846 میں بہت سارے ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جن سے تحریک آزادی کشمیر ابھرتی ہوئی نظر آئی، کشمیر میں اکثریت کی بات کی جائے تو مسلم جماعتوں کے مطابق 90 جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق 77 فیصد مسلم آبادی تھی،تب اسے انگریزوں کے زیر تسلط علاقہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتا تھا، اس کے بعد ڈوگروں کے دور میں 1924 تک سیاسی خاموشی نظر آئی، یہ خاموش اس وقت ٹوٹی جب سرینگر میں کام کرنے والے ریشم کے کارخانے کے مزدوروں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور پوری ریاست نے ان کی آواز میں آواز ملائی اور یوں پوری ریاست سراپہ احتجاج بن گئ۔
اور ہندوؤں گرو کے خلاف آزادی کی تحریک بن گئی، اس تحریک کو بھی ڈوگروں نے اپنی طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی وقتی طور پر یہ تحریک کمزور ہوئی مگر اس کے بعد ریاست کے عوام میں بیداری آئی اور آزادی کا جذبہ توانا ہوا،
اس کے ساتھ ساتھ 15 مارچ 1929ءکو مہاراجہ ہری سنگھ کے خارجی و سیاسی امور کے وزیر سرایلن بینرجی نے لاہور میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے نمائندے کو ایک چونکا دینے والا بیان دے کر ڈوگرہ حکومت کے اقدامات کی قلعی کھول دی۔ اس نے کہا کہ ”ریاست جموں و کشمیر میں راجا اور پرجا کے درمیان کوئی تعلق نہیں ریاستی عوام کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے“۔
1931ءکا سال کشمیر کی تاریخ میں ایک سنگ میں کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سال پے درپے ایسے واقعات ہوئے کہ کشمیریوں کے صدیوں سے دبے ہوئے جذبات طوفان کی طرح امڈ پڑے اور انہوں کے تحریک آزادی کی شکل اختیار کر لی۔ ان میں پہلا واقعہ جموں میں توہین قرآن کا واقعہ تھا اور دوسرا خطبہ عید کی بندش کا۔ ان واقعات کے خلاف احتجاج کے لیئے 21 جون 1931ءکو سرینگر میں ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسے کے دوران عبدالقدیر نامی ایک اجنبی نوجوان کی شعلہ بار تقریر نے کشمیری مسلمانوں کے تن بدن میں آ گ لگا دی
عبدالقدیر کو ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ 13 جولائی 1931ءکو اس کے خلاف مقدمہ کو سماعت کے دوران سرینگر جیل کے احاطے میں جمع ہونے والے ہجوم پر اذان کے دوران ڈوگرہ فوج نے گولیاں برسائیں اور 31 فرزندان توحید جام شہادت نوٹس کر گئے۔
اکتوبر1947 کو موجودہ آزاد حکومت قائم کرنے کا دیا ہوا فارمولہ تقسیم ہند کے تحت 80 فیصد مسلم تناسب سے پاکستان کا حصہ بننا تھی لیکن دوگرہ تھا جس کی خواہش تھی کہ ریاست بھارت کا حصہ بنے اس لئے مسئلہ کو تاخیر کرنے کے حربے میں تھا، بالآخر 24 اکتوبر کو یہ حصہ آزاد حکومت کے حصے میں آیا جسے پاکستان و آزاد حکومت یوم تاسیس جبکہ خودمختار پسند یوم سیاہ کے طور پہ مناتے ہیں۔ اس کے فورًا بعد 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے نہ صرف بھارت سے فوجی امداد طلب کی بلکہ بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست بھی دے ڈالی چونکہ بھارت کشمیر پر قبضہ کیلئے موقع کی تلاش میں تھا یوں اس نے 27 اکتوبر 1947 کو کشمیر کے حصہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لیا، ادھر جنوری 1948 بھارت مسئلہ کشمیر کو لے کر اقوام متحدہ میں پہنچا جس پر 17 جنوری 1948 کو اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی اور 20 جنوری پاکستان بھارت ایک کمیشن قائم کیا جس کی سفارشات کی روشنی میں 15 اگست 1948 اور یکم جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابو 84 ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی پوری ریاست جموں وکشمیر منتارعہ ہے جس میں وہ تمام تر حصے شامل ہیں جو پاکستان بھارت و چین کے پاس ییں،
یہ بھی پڑھیں
مطلوب انقلابی کا کرونا ٹیسٹ مثبت دعاؤں کی اپیل

اقوام متحدہ نے 17 اپریل 1948، 13 اگست 1948، 5 جنوری 1949، 23 دسمبر 1952 کو کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی قراردادیں منظور کی، لیکن تا حال ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا جس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بھارت کا یہ دعویٰ کہ کشمیر اُس کا اٹوٹ انگ تھا اور ہے، ایک ایسا جھوٹ ہے جس پر بدقسمتی سے اقوام عالم بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
گزشتہ 73 سالوں میں میں تحریک آزادی کشمیر میں اتار چڑھاؤ و اہم واقعات
30 مارچ 1951: اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے کشمیر میں انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی رائے شماری کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے ساتھ ہی ایک نمائندہ مقرر کرنے اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا مگر اس پر عمل در آمد نہ ہو سکا ۔
31 اکتوبر 1951: شیخ عبداللہ نے ریاستی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں دلائل دیئے۔
جولائی 1952: شیخ عبدااللہ نے دہلی معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کے تحت انڈیا کے زیرانتظام ریاست کو داخلی خودمختاری دی جائے گی۔
فروری 1954: کشمیر کی اسمبلی نے بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔
14 جنوری 1957: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر 1951 کی قرارداد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کسی طور بھی کشمیر کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ رائے شماری کا متبادل ہے۔
9 اگست 1955: رائے شماری محاذ قائم کیا گیا جس نے شیخ عبداللہ کی رہائی اور اقوام ِ متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کیا۔
20 اکتوبر تا 20 نومبر 1962: لداخ میں بھارت اور چین کے مابین ایک سرحدی تنازعے نے جنگ کی شکل اختیار کر لی جس کے نتیجے میں لداخ کے ایک بڑے علاقے پر چین قابض ہو گیا۔
23 اگست تا سمبر 1965: پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسری جنگ چھڑ گئی جس نے 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کر دیا۔
2 جولائی 1972: پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ ہو ا جس میں اقوام ِ متحدہ کی فائر بندی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا مزید یہ کہ اس معاہدے کی رو سے فریقین اس مسئلے کو دو طرفہ مذاکرات سے حل کریں گے ۔
اپریل 1984: بھارت نے سیاچین گلیشئر پر قبضہ کر لیا ۔
اپریل 2016: محبوبہ مفتی اپنے باپ مفتی سعید کے بعد کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔
جولائی 2016: حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا۔
14 فروری 2019: پلواما میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔
21 فروری 2019: بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی۔
26 فروری 2019: بھارت نے بالا کوٹ میں مجاہدین کے ایک کیمپ پر فضائی حملہ کیا اور کئی مجاہدین کو مارنے کا دعویٰ کیا۔
27 فروری 2019: پاکستان نے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
5 اگست 2019: بھارتی حکومت نے آئین میں سے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جو کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا ۔اس طرح کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کر دیا گیا۔
16 اگست 2019: 1965 کے بعد پہلی بار کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔
کشمیر اس داستان خون چکاں کا سب سے کربناک پہلو وہ انسانی المیہ ہے جس سے ریاست کے عوام دو صدیوں سے بالعموم اور گزشتہ 70 سال سے بالخصوص دو چار ہیں۔ بھارتی قابض فوج کے انسانیت موز مظالم، تین نسلوں کی ہجرتوں کے کرب، بچھڑے اور منقسم خاندان، غیر یقینی مستقبل بے بسی اور اقوام اور اوام عالم کی چشم پوشی!۔
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں