بددیانتی اور کرپشن کی واردات کو تحفظ دیا جا رہا ہے، میاں نوازشریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائداور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں ایجنٹ نہیں ،عمران خان مجرم ہے، بددیانتی، خیانت اور کرپشن کی واردات کو تحفظ دیا جارہا ہے، 19جنوری کو احتجاج الیکشن کمیشن کی کوتاہی اور تاخیر کیخلاف ہے،یہ احتجاج نااہل شخص کو ملک پر مسلط کرکے اس کی چوری پر پردہ پوشی کرنے والوں کیخلاف بھی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس میں اپنے پیغام میں کہا کہ ایک ایسے مقدمے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کاگہرا تعلق پاکستان کے آئین، قانون، جمہوریت، اور موجودہ حکومت کے وجود کے قانونی جواز سے ہے، یہ صاف اور سیدھا مقدمہ گزشتہ 6 سال الیکشن کمیشن میں لٹکا ہوا ہے، فیصلہ اس لیے ہورہا کہ کٹہرے میں کھڑے شخص کانام نوازشریف نہیں عمران خان ہے، فارن فنڈنگ کے مقدمے میں ملوث جماعت کانام مسلم لیگ نہیں بلکہ پی ٹی آئی ہے، یاد ہوگا جب ایک منتخب وزیراعظم یعنی مجھے نکالنے کیلئے تیز رفتاری سے کاروائی ہوئی اوربھگڈر مچی ہوئی تھی، سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک جے آئی ٹی قائم کی، جس میں ایم آئی، آئی ایس آئی کے نمائندوں کوبھی شامل کیا گیا۔
پھر 60دنوں میں جے آئی ٹی کو رپورٹ دینے کا حکم دیا گیا، پھر کس تیزی سے پانامہ کیس میں میرے خلاف فیصلہ آیا، بیٹے کی کمپنی کے اقامے کی بنیاد پر ایک وزیراعظم کو برطرف کردیا گیا، پھر یہ بھی دیکھا کہ کس طرح احتساب عدالت کو پابند کیا گیا کہ 6ماہ میں فیصلہ دیا جائے، پھر چابک مارنے کے انداز میں احتساب عدالت پر بھی سپریم کورٹ کا ایک جج بٹھا دیا گیا، پھر حکم صادر کیا گیا کہ احتساب عدالت فیصلہ دینے کیلئے ہفتہ وار چھٹی بھی نہ کرے، پھر جج محمد بشیر کی مدت میں توسیع بھی کردی گئی۔
یہ تصویر ایک رخ تھا، اب تصویر کے دوسرے رخ کو کودیکھیں توپی ٹی آئی کی غیرقانونی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے ایک مقدمہ 2014ء میں دائر ہوا، یہ مقدمہ مسلم لیگ ن یا اپوزیشن جماعت نے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بانی رکن نے دائر کیا، اس مقدمے کی 70سماعتیں ہوچکی ہیں، عمران خان اپنے سینے پر صادق اور امین کا تمغہ سجائے نعرے لگانے عمران خان کہتے تھکتا نہیں تھا کہ احتساب میری ذات سے شروع کیا جائے اب اپنے اقتدار اور سرپرستوں کی حمایت سے انصاف کی راہ خود بڑی رکاوٹ ہے،مختلف حیلوں بہانوں سے 30بار کیس ملتوی کروایا، 8بار وکیل بدلے، الیکشن کمیشن کے20احکامات کوردی کی ٹوکری میں ڈال دیا، جن میں تفصیلات مانگی گئی تھیں، ٹال مٹول کیلئے اعلیٰ عدالتوں میں 6مختلف درخواستیں دائر کیں تاکہ کیس نہ سنا جاسکے، مارچ2018ء میں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال کیلئے اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی۔
حکم دیا کہ ایک ماہ میں رپورٹ دی جائے پتا نہیں یہ نورا کشتی تھی؟آج اڑھائی سال بعد بھی کوئی رپورٹ سامنے نہ آئی، اکتوبر 2019ء میں الیکشن کمیشن نے ایک آرڈر پر لکھا کہ یہ کیس تاریخ میں قانونی عمل کی تذلیل کی بدترین مثال ہے، لیکن کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا، اب ساتویں سال میں عمران خان نے تسلیم کیا کہ فارن فنڈنگ میں خرابیاں ہوئیں ، پھرحسب عادت اس کی ذمہ داری اپنے ایجنٹوں پر ڈال دی کہ ایجنٹوں نے کام کیا ہوگا، بھئی یہ ایجنٹ کوئی راہ چلتے لوگ نہیں ،بلکہ باقاعدہ پی ٹی آئی کے نام پر امریکا میں رجسٹرڈدو کمپنیاں ہیں، جو عمران خان کے حکم پر وجود میں آئیں۔
اسی کی نگرانی میں ہی ان کو چلایا جاتا رہا، بات یہاں ختم نہیں ہوتی، اسٹیٹ بینک نے پی ٹی آئی کے 23اکاؤنٹس کی معلومات الیکشن کمیشن کو فراہم کیں، عمران خان نے فراڈ کے ساتھ ان میں 15اکاؤنٹس کو چھپایا،الیکشن کمیشن کو دی گئی رپورٹ میں شامل ہی نہیں کیا، جو قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں