عملے کو وزیراعظم عمران خان کی شکایت پر برطرف کیا گیا

تفصیلات کے مطابق خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی شکایت پر بنی گالہ تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے علاوہ باقی تمام عملے کو ہٹا دیا گیا۔ اس سلسلے میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دفتر سے دو الگ الگ نوٹیفیکیشن جاری کیے گئے۔
ایک درجن سے زائد ماتحت افراد (کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل)، تین سب انسپکٹرز اور تین اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو برطرف کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک سینئیر پولیس افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر قومی اخبار کو بتایا کہ پولیس تھانے کے عملے کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں ۔ ان شکایات کے مطابق بنی گالہ پولیس اسٹیشن کے عملے کے افراد زمینوں پر قبضہ کرنے والوں اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کرنے والی گاڑیوں سے پیسے بھی کما رہے ہیں۔
قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل ہی نئے تعینات ہونے والے آئی جی پی قاضی جمیل الرحمان نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم خان نے آئی جی پی کو پولیس اسٹیشن کے عملے کی جانب سے ایک ٹرک ڈرائیور سے رقم حاصل کرنے سے متعلق بتایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرک ڈرائیور کا سراغ لگایا گیا تھا اور پولیس اسٹیشن کے عملے کی شناخت کے لیے فون بھی کیا گیا تھا تاہم ٹرک ڈرائیور نے بہانہ بنایا کہ وہ اس سے پیسے لینے والوں کی شناخت نہیں کرسکتا ۔
جس کے بعد اگلے ہی روز آئی جی پی نے تھانے کے عملے کو ہٹانے کے احکامات جاری کر دئے تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پولیس کو کرپشن اور سیاست سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ، پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد محکمہ پولیس نے کئی تبدیلیاں اور تبادلے بھی کیے گئے جن میں پنجاب کے آئی جی اور سی سی پی او لاہور کی تقرریاں اور تبادلے سر فہرست ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں