چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ساتھ فراڈ

اسلام آباد چیمبر اینڈ کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب میں سپریم کورٹ سے ریٹائرڈ ہوا تو کافی پیسے ملے تو سوچا کہ ایک پلاٹ لے لوں ، اس سلسلے میں ایک سوسائٹی کا اشتہار دیکھا جس میں آبشار ، مساجد ، ٹینس کورٹ ، جم اور شاپنگ سینٹر سب تھا لیکن اس میں لکھا تھا کہ شرط یہ ہے کہ اکٹھے پیسے دیں گے تو بیلٹنگ نہیں ہوگی۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ اشتہار دیکھ کر میں نے پلاٹ خریدنے کے لیے 45 لاکھ روپے دیے لیکن آج تک پلاٹ ملا اور نہ ہی وہ 45 لاکھ واپس ملے۔ انہوں نے بتایا کہ جب چیئرمین نیب لگا تو سوسائٹی انتظامیہ کے 2 لوگ آئے، جنہوں نے 45 لاکھ کا چیک مجھے واپس کیا ، جس پر متاثرین کا پوچھا تو پتا چلا میرا نمبر ان کے بعد کا ہے جس پر انہیں پہلے دوسرے لوگوں کو پیسے ادا کرنے اور بعد میں اپنے پیسے لینے کا کہا ، لیکن اس کے بعد سے آج تک میرا پیسہ واجب الادا ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ہم دلبرداشتہ نہیں ہوئے کام کررہے ہیں ، بدعنونی کو دیکھ کر ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے ، کیوں کہ اصل کاروباری اور ڈکیت میں فرق ہوتاہے ، اصل بزنس مین کو نیب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ، ڈکیت کا کیس نیب قانون کو دیکھ کر آگے بڑھتا ہے ، کیوں کہ نیب احتساب کے شفاف عمل پر یقین رکھتا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ پورےملک میں کہیں نظرنہیں آیاکہ اربوں ڈالرکہاں خرچ ہوئے، پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ہے ، ہمارے ایک ہاتھ میں کشکول ہیں ، معیشت مضبوط ہوگی تو ملک توانا ہوگا ، تاجروں کی شکایات کاازالہ کیاجائےگا ، تاجروں کے باعث لوگوں کو روزگار ملتا ہے ، تاجروں کےمفادات کاخیال رکھنااولین ترجیح ہے ، سازگار ماحول سے ملک میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں