سینئیر تجزیہ کار طاہر ملک نے پاکستان تحریک انصاف میں ہونے والی بغاوت سے متعلق انکشاف کر دیا

گذشتہ کچھ عرصہ سے حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے صفوں میں بغاوت کی خبریں سامنے آ رہی تھیں اور کہا جا رہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں بہت جلد بغاوت ہو گی جس سے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے رابطوں میں ہونے کا انکشاف کیا اور دوسری جانب پی ٹی آئی کے ناراض اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے شدید اختلافات کا اظہار کیا تھا جس سے اپوزیشن کے مؤقف کو تقویت ملی تھی۔
تاہم نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی طاہر ملک نے اس حوالے سے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے جنوبی پنجاب سے ایک بغاوت کی صورتحال بن گئی ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان شدید مشکل میں پھنس گئے ہیں۔
2018 ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے دو تین چیزوں پر بڑا فوکس کیا جس میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا گیا۔

حالانکہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ عمران خان نے دوسری بات یہ کی تھی کہ ان کے پاس جو قیادت ہے وہ کرپٹ نہیں ہے حالانکہ ساری قیادت ہی کرپٹ ہے۔ اب مسئلہ یہ بن گیا ہے کہ جو جو عمران خان نے کہا کہ وہی ان پر الزام لگ رہے ہیں۔ طاہر ملک نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کے جتنے بھی رہنما ہیں ، سوائے ایک وزیراعلیٰ پنجاب کے ، سب اکٹھے ہو گئے ہیں۔
خواجہ داؤد سلیمانی نے جو الزامات عائد کیے ہیں ان سے ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ موجودہ دور حکومت میں بھی جنوبی پنجاب کے ساتھ سوتیلا سلوک ہی کیا گیا ہے۔ طاہر ملک نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے قبل ترقیاتی فنڈ کو رشوت قرار دیا تھا لیکن اب انہوں نے 50، 50 کروڑ روپے لاہور کے کئی حلقوں میں دے دئے ہیں اور کہا ہے کہ یار ان کو پیسے دو اور ان سے ووٹ لو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں