بیشتر نجی بینکوں نے رسید کی فیس چارج کیے جانے کی تردید کر دی

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز ایک خبر سامنے آئی جس کے مطابق شہر قائد کراچی کے متعدد بینکوں نے اے ٹی ایمز سے رقم نکالنے کے بعد رسید کی وصولی پر چارجز عائد کردیئے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ انکشاف بھی ہا کہ بیلنس معلوم کرنے پر بھی صارفین سے فیس چارج کی جا رہی ہے۔ بینکوں کی جانب سے صارفین سے رسید کی وصولی پر ڈھائی روپے چارج کئے جانے لگے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے اور صارفین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد کچھ نجی بینکوں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے۔
کچھ نجی بینکوں نے وضاحت کی ہے کہ ان کی جانب سے اے ٹی ایم رسید یا بیلنس معلوم کرنے پر کوئی فیس چارج نہیں کی جا رہی، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھی انہیں کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

جبکہ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اے ٹی ایم رسید جاری کرنے پر چارجز عائد کرنے کوئی ہدایت جاری نہیں کیں۔ تاہم کوئی بھی بینک اپنی خدمات کے عوض صارفین سے چارجز وصول کرنے کے معاملے میں آزاد ہے۔ بینک اپنی خدمات کے عوض چارجز وصول کرنے کے مجاز ہیں، بشرطیکہ وہ اسٹیٹ بینک کی کسی ہدایت سے متصادم نہ ہوں۔ کسی بھی بینک کی جانب سے جو بھی چارجز عائد کیے جاتے ہیں، وہ شیڈول آف چارجز میں شائع ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے بعض خدمات پر چارجز کی حد مقرر کی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں