علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے آج اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت ناصر علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت ،پاک فوج اور محمد علی سدپارہ کے لواحقین اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستانی کوہ پیما اب اس دنیا میں نہیں رہے ہیں ۔
ناصر علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایوی ایشن اور حکومت نے گزشتہ 13 دن سرتوڑ کوشش کرنے کے باوجود علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کوہ پیمائوں کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم ناکام رہے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کوہ پیما اب نہیں رہے ہیں،علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد سدپارہ کو سول اعزاز دیا جائے گا ۔
ناصر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو سکردو ایئر پورٹ علی سدپارہ کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز دیں گے جب کہ مایہ ناز کوہ پیما کے نام سے کوہ پیمائی کی تربیت کے لیے سکول بھی قائم کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی ہیرو کی خدمات کو سلام پیش کرتی ہے، علی سدپارہ کے بچوں کی مالی اور اخلاقی معاونت کی جائے گی جب کہ انہیں سکالر سپش دی جائیں گی جب کہ کوہ پیمائی کے دوران حادثات کا شکار ہونے والے کوہ پیمائوں کے اہل خانہ کی مالی امداد کے لیے قانون بنایا جائے گا۔
علی سدپارہ کے بیٹے کی جانب سے اپنے والد کے انتقال کی خبر کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا پر مایہ ناز کوہ پیما کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ایک ٹویٹر صارف نے لکھا کہ’پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں میں کھو گیا۔۔۔۔!!!‘ ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں