وقت نے ثابت کیا ہماری حکمت عملی درست تھی .چیئرمین پیپلزپارٹی کا کراچی میں تقریب سے خطاب

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ایس-88 کے عوام نے ثابت کردیا ہے کہ یہ شہر کراچی بھٹو کا ہے، آپ کی محنت اور خدمت نے پورے پاکستان کو دکھا دیا ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کی اصل اوقات کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ 2018 میں تو دھاندلی ہوئی تھی، ان کی اصل اوقات یہی ہے کہ اگلے الیکشن میں ان کو تیسرا نمبر ملے اور ان کی ضمانت ضبط ہو جائے انہوں نے کہا کہ شہید مرتضی بلوچ اس علاقے کے عوام کے لیے خدمت اور محنت کی وجہ سے آپ نے پیپلز پارٹی کو اتنی بڑی لیڈ دلائی ہے کہ سلیکٹڈ اور سلیکٹر دونوں پریشان ہیں کہ جب ہم یوسف بلوچ جیسے کارکن کو ٹکٹ دلوائیں گے تو وہ دھاندلی سے بھی آپ کو نہیں ہروا سکیں گے.
انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومت کے خلاف ہر میدان میں لڑ رہے ہیں اور انہیں شکست دے رہے ہیں، کراچی سے سانگھڑ، سانگھڑ سے لے کر پشین بلوچستان تک جہاں جہاں ضمنی الیکشن ہوئے ہیں، حکومت کو عبرتناک شکست ہوئی ہے بلاول نے کہا کہ پہلے وہ بڑے سکون سے بیٹھے تھے کہ اپوزیشن الیکشنز کا بائیکاٹ کر دے گی، اپوزیشن تو سینیٹ کا بھی بائیکاٹ کر دے گی اور ان کا راستہ آسان ہو جائے گا لیکن پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) نے وہ سیاسی کارڈ کھیلے ہیں کہ اب وہ ضمنی الیکشن کی وجہ سے بھی پریشان ہیں، اپنے سینیٹ الیکشن کی وجہ سے بھی بہت پریشان ہیں اور پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں حکومت پر ناصرف سندھ اور پنجاب بلکہ اسلام آباد سے بھی وار کررہی ہے. انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کی وجہ سے حکومت اتنی پریشان ہو چکی ہے کہ ہر ادارے کو متنازع بنا رہی ہے، کبھی وہ بندوق الیکشن کمیشن کے کندھوں پر چلانا چاہتے ہیں، کبھی وہ سپریم کورٹ کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں اور کسی نہ کسی سے سینیٹ الیکشن میں دھاندلی کرانا چاہتے ہیں لیکن جب تک ہم جمہوری قوتیں موجود ہیں، کسی کو ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سینیٹ انتخابات میں دھاندلی کرے .
بلاول نے کہا کہ کسی کو ہمت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ چور دروازوں سے نیازی سلیکٹڈ کو سینیٹ میں اکثریت دلائے، اگر زبردستی اراکین صوبائی اسمبلی کی خفیہ ووٹنگ اور مرضی سے ووٹ کے حق کو چھینا جائے گا تو یہ جمہوریت پر حملہ ہے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے کارکن اور پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں ایسا نہیں ہونے دے گی، ہم اس سینیٹ الیکشن میں دھاندلی کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے، اگر حکومت کی اکثریت ہے، اگر حکومت اپنے ارکین قومی اور صوبائی اسمبلی پر اعتماد کرتی ہے تو پھر وہ چور دروازوں سے کیوں آنا چاہتے ہیں، آمنے سامنے جمہوری مقابلہ کریں.
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو ریفرنس بھیجا ہے یہ اس نے اپنے ہی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد قرار دے دیا کہ عمران خان ان پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں، وہ کیوں بھروسہ کریں کیونکہ وہ جانتے کہ یہ حکومت تو جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان کے کہنے پر کیوں ووٹ دیں گے ان کو نظر آ رہا ہے کہ الیکشن کراچی میں ہو یا سانگھڑ میں، پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دے رہی ہے تو وہ خوشی خوشی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ آ رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں